افغانستان کی جانب سے ٹی ٹی پی کے خلاف فیصلہ کن کاروائیاں میں دشواری ھو رہی ہے ؟؟
اگست 2021 میں طالبان کے افغانستان میں حکومت بنانے کے فوراً بعد سے ہی حقانی اور قندھاری گروپ میں طاقت کی کشمکش شروع ھو گئی تھی جس میں گزشتہ کچھ ماہ سے بہت اضافہ ھو گیا ہے – حقانی دھڑے کی قیادت سراج الدین حقانی کر رہے ہیں جنھیں خلیفہ صاحب بھی کہا جاتا ہے – جبکہ قندھاری گروپ کی قیادت سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخونزادہ کے پاس ہے –
دونوں دھڑوں میں بہت سے معاملات پہ اختلافات ہیں مگر وزیر خارجہ تبدیل کرنا اس وقت سب سے بڑا مسئلہ ہے – خلیفہ صاحب قندھاری گروپ سے تعلق رکھنے والے امیر خان مُتقی کو ہٹا کر انس حقانی کو وزیر خارجہ لگانا چاہتے ہیں – جبکہ سپریم لیڈر اس کی مخالفت کر رہے ہیں-
اسی طرح دونوں گروپس میں خواتین کی تعلیم اور شہریوں کے بنیادی حقوق جیسے معاملات پے بھی اختلاف ہے – مگر پاکستان کے لیے اس وقت سب سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہیں یہ اختیارات کی یہ لڑائی افغانستان کی جانب سے ٹی ٹی پی کے خلاف حتمی لڑائی پے اثر انداز تو نہیں ھو رہی -جواب ہاں میں ہی ھو گا –
حقانی گروپ کے پاس پہلے ہی داخلہ جیسی اہم وزارت موجود ہے جبکہ وہ اب خارجہ کی وزارت پے قبضہ کر کے بین الاقوامی اثر رسوخ بڑھانا چاہتے ہیں – ٹی ٹی پی کے افغانستان میں موجود تقریباً تمام مراکز حقانی گروپ کے زیر اثر علاقوں سے پاکستان کے خلاف کاروائیاں کر رہے ہیں –
کچھ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ افغانستان میں جاری طاقت کی اس چپقلش کی وجہ سے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخونزادہ ٹی ٹی پی کے خلاف کوئی ایکشن لینے میں دقت محسوس کر رہے ہیں کیوں کہ حقانی گروپ ایسی کسی بھی کاروائی میں رکاوٹ ہے – اب جبکہ افغان عبوری حکومت کو اندرونی خلفشاروں کے علاوہ نیشنل ریزسٹنٹ فرنٹ (NRF) اور داعش جیسے خطرات کا سامنا ہے جو کہ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ افغانستان میں استحکام آنے کے امکانات بہت کم ہیں –
افغانستان کو چاہیے کہ وہ اپنے اچھے مستقبل کے لئے پاکستان کے ساتھ بارڈر کو بہتر انداز میں سنبھالے اور ٹی ٹی پی کے خلاف فیصلہ کن کاروائی کرے – پاکستان متعدد بار افغانستان میں طالبان سے درخواست کر چکا ہے کہ جو انھوں نے دوحہ میں امریکہ سے وعدے کیے تھے کہ وہ اپنی سرزمین دہشتگردوں کو استعمال نہیں کرنے دیں گے وہ نبھائیں۔ جبکہ وہ کارروائی نہیں کر رہے اور پاکستان میں دہشتگردی بڑھ رہی ہے۔
