فائر وال کی تنصیب بہترین اقدام

علی انوار

Publishing date: 29 June 2024

Published in: Nawai Waqt

حکومت اور پاکستانی اداروں کہ جانب سے سوشل میڈیا اور ویب سائٹس کو کنٹرول کرنے کے لیے انٹرنیٹ گیٹ وے پر فائر وال کی تنصیب کی جا رہی ہے۔ فائر وال کی تنصیب کے بعد حکومت کے لیے متنازعہ مواد کو حذف کرنے اور اسے اپ لوڈ کرنے والے صارفین کی شناخت کرنا قدرے آسان ہو گیا ہے اور اس سے وہ عناصر جو سوشل میڈیا پر بیٹھے کر پاکستان اور ہمارے سلامتی کے اداروں کو نشانہ بناتے ہیں اب ان کیلئے بچنا آسان نہ ہو گا۔کہا جا رہا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی ایک دوست ملک نے پاکستان کو فراہم کی ہے اور اسے مشرق وسطیٰ کے ایک عرب ملک میں پہلے ہی کامیابی سے استعمال کیا جا رہا ہے۔ حکومت کی جانب سے فائر وال لگانے کے دو مقاصد ہیں ایک نامناسب مواد اپ لوڈ کرنے والوں کی شناخت کرنا اور دوسرا ایسے مواد کی عام لوگوں تک رسائی محدود کرنا کیوں کہ پاکستان کے دشمن اب پاکستان کیخلاف جنگ ٹینکوں اور میزائل کے ذریعے نہیں انٹرنیٹ پر بیٹھ کر عام لوگوں کے ذہنوں کو کنٹرول کر کے لڑ رہے ہیں۔

میں نے چند برس قبل بھی اپنے کالم میں لکھا تھا کہ ففتھ جنریشن وار کے بنیادی ہتھیار جہاز، ٹینک اور میزائل نہیں بلکہ سفارت کاری، ٹی وی، ریڈیو، اخبار، سوشل میڈیا، فلم اور معیشت ہیں۔یہ لڑائی زمین پر نہیں بلکہ لوگوں کے ذہنوں کے ذریعے لڑی جا رہی ہوتی ہے۔لوگوں کے جسم کو نہیں بلکہ ان کے ذہن کوشکار کیا جاتا ہے۔ اس میں حریف کسی ملک میں اپنی فوجیں نہیں اتارتے بلکہ اس ملک کے عوام کو ہی اس کے خلاف استعمال کر کے اپنا مقصد حاصل کرتے ہیں۔اب یہ کھیل کھل کر کرکھیلا جا رہا ہے اور گزشتہ چند دنوں سے ہمارے نوجوانوں کو پٹی پڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ انٹرنیٹ پر بیٹھ کر مادر پدر آزادی ہی آپ کا ہتھیار ہے اور اس کے ذریعے پاک فوج کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔دشمن بہت زیر ک ہے اسے پتہ ہے کہ اگر ہم اس کے نوجوانوں کے ذہنوں میں پاک فوج کے خلاف زہر بھر دیں گے تو پھر پاکستان کو زیر کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہو گا کیوں کہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ پاک فوج ہی وہ فوج ہے جو ہماری سرحدوں کی محافظ اور دو قومی نظریے کی پاسبان ہے۔ ذہن سازی کی جا رہی ہے نوجوانوں کو ورغلایا جا رہا ہے اور اب جبکہ فائر وال کی تنصیب کے بعد ایسے عناصر کی نشاندہی آسان ہو جائے گی تو ان کو آزادی رائے یاد آ گئی ہے اور اب انہیں اپنی گرفت کا خوف پیدا ہو گیا ہے۔
دوسری جانب اگر ہم پاکستان میں آزادی اظہار رائے کو دیکھیں تو دنیا کے بہت سے ممالک کی نسبت اتنی زیادہ ہے کہ آپ کسی کو بھی کچھ بھی کہہ سکتے ہیں۔میں اگر مثال دوں تو بھارت جو اپنے آپ کو جمہوریت کا چیمپئن کہتا ہے اور دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا دعویدار ہے اگر وہاں آزادی اظہار رائے کی صورتحال دیکھیں تو حال ہی میں بھارت نے فیس بک، ٹویٹر اور واٹس ایپ پر پابندیاں عائد کی ہیں اور ٹویٹر کے دفتر پر تو باقاعدہ چھاپہ مارا گیا ہے۔ نائیجریا میں حکومت نے ٹویٹر مکمل طور پر بند کر دیا ہے،چین میں یہ فیس بک، ٹویٹر اور اس طرح کی کوئی ایپ نہیں چلتی ان کا اپنا نظام ہے جس کے تحت لوگ سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں۔جب ہم اپنے ارد گرد ممالک میں نظر دوڑائیں تو یہ واضح ہو جاتا ہے کہ اس کی نسبت پاکستان میں لوگوں کو رائے کی آزادی میسر ہے لیکن بعض لوگ اس کا غلط استعمال کر رہے ہیں۔آزادی اظہار کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ اپنے گھر کی باتیں باہر والوں کو بتائیں اورکہیں کہ یہ رائے کی آزادی ہے۔ اگر ہم بین الاقوامی میڈیا پر نظر ڈالیں وہ دنیا میں پاکستان کو ایک ناکام ریاست بناکر پیش کرتا ہے اور ان کی کوشش ہے کہ پاکستان کو صحافیوں اور عام لوگوں کیلئے خطرناک ملک بنا کر پیش کیا جائے جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ یہ بھی ففتھ جنریش وار کا حصہ ہی ہے کہ کسی کیخلاف اتنا پروپیگنڈہ کیا جائے کہ وہ حقیقت کا گمان دے۔ کیوں کہ پروپیگنڈاکرنا بھی ففتھ جنریشن وار کا ہی ایک ٹول ہے اور اس کا اہم ہتھیار ہے اور ففتھ جنریشن وار نظریے کی جنگ ہے جس میں باطل نظریات کو حاوی کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
کیوں کہ یہ جنگ گولہ و بارود سے نہیں ذہنی سوچ اور بیانئے کے فروغ سے لڑی جانی ہے اور لڑی جارہی ہے جس کا بیانیہ جتنا مضبوط ہو گا اور وہ اس کی جتنی مؤثر تشہیر کر سکے گا وہ اس جنگ میں کامیاب ہو گا۔اس میں دشمن کے فوجیوں کو مارنے کی حکمت عملی کی بجائے انہیں ناکارہ کرنے کی حکمت عملی پر زور دیا جاتا ہے اور دشمن کی یہی کوشش ہے کہ پاکستان کے عوام میں اس کی فوج کے خلاف اتنا گند اور نفرت بھر دی جائے کہ وہ اپنی فوج سے ہی نفرت کرنے لگیں لیکن دشمن کی یہ سازش انشا ء اللہ ناکام ہو گی کیوں کہ لوگ دشمن کی چالوں کو سمجھ چکے ہیں اور وہ ان کے جھانسے میں آنے والے نہیں انشاء اللہ پاکستان کی غیور عوام اپنے فوج کی پشتی بان کر ہمیشہ کی طرح اس کا ساتھ دے گی اور دشمن کی یہ ففتھ جنریشن وار اسی پر الٹا دی جائے گی۔

COMMENTS

Wordpress (0)
Disqus ( )