مالدیپ کے بعد بنگلہ دیش میں بھی ’انڈیا آؤٹ‘ کا نعرہ: کیا بنگلہ دیش مالدیپ کے نقش قدم پر چلنے میں کامیاب ہو پائے گا؟
مرزا اے بی بیگ
02 April 2024
Published in: bbc urdu
’میرا سوال ہے کہ اُن کی بیویوں کے پاس کتنی انڈین ساڑھیاں ہیں؟ وہ اپنی بیویوں سے یہ انڈین ساڑھیاں لے کر انھیں جلا کیوں نہیں دیتے؟‘
یہ سوال بنگلہ دیش کی وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد نے ملک میں حزب اختلاف کی جماعت بنگلہ دیش نیشل پارٹی (بی این پی) کے بعض رہنماؤں کی جانب سے انڈین مصنوعات کے بائیکاٹ کے مطالبے کے جواب میں کیا ہے۔
اور وزیر اعظم حیسنہ واجد نے بس اتنا کہنے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اپنی جماعت عوامی لیگ کی ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے اُن کا مزید کہنا تھا کہ انڈیا سے آنے والے ’گرم مصالحے، پیاز، لہسن اور دیگر اشیا بھی اپوزیشن (بی این پی) رہنماؤں کے گھروں میں نہیں نظر آنے چاہییں۔‘
انھوں نے کہا کہ جب حزب اختلاف کی جماعت ’بی این پی‘ اقتدار میں تھی تو اُن کی حکومت کے وزرا اور اُن کی بیویاں انڈیا کے دوروں کے دوران ساڑھیاں خریدتے تھے اور انھیں بنگلہ دیش میں فروخت کرتے تھے۔
بنگلہ دیش کے اخبار ’ڈیلی سٹار‘ کے مطابق شیخ حسینہ کے یہ ’طنز سے بھرے‘ ریمارکس حزب اختلاف کے رہنما روح الکبیر رضوی کی جانب سے انڈین مصنوعات کے خلاف علامتی احتجاج کے طور پر اپنی کشمیری شال سڑک پر پھینکنے کے بعد سامنے آئے ہیں۔
یاد رہے کہ گذشتہ سال انڈیا کے ایک اور پڑوسی ملک مالدیپ میں ’انڈیا آؤٹ‘ کے نعرے پر صدارتی انتخاب کی مہم چلانے والےمحمد معیزو نے انڈیا حامی کہلائے جانے والے صدر محمد صالح کو شکست دے کر صدارتی انتخاب میں کامیابی حاصل کی تھی۔
اور اس کامیابی کے بعد محمد معیزو نے چین کے ساتھ قربت بڑھائی اور انڈیا کو مالدیپ سے سکیورٹی کے نام پر موجود افواج کو ہٹانے پر مجبور کیا، جسے اب مرحلہ وار طور پر ہٹایا جا رہا ہے۔
تو کیا اب بنگلہ دیش میں بھی ایسی کوئی پیش رفت ہو سکتی ہے؟
اگرچہ بنگلہ دیش میں حزب اختلاف کی جماعت ’بی این پی‘ کے کچھ سرکردہ رہنماؤں جیسا کہ مسٹر رضوی نے اس مہم کی حمایت کا اظہار کیا ہے تاہم پارٹی نے ابھی تک اس پر باضابطہ اپنا موقف واضح طور پر بیان نہیں کیا ہے۔
’ٹیلی گراف‘ اخبار کے مطابق بی این پی کے میڈیا سیل کے رکن اور رہنما سائرالکبیر خان نے کہا ہے: ’ہماری پالیسی ساز تنظیم نے اس معاملے پر بحث کی ہے کیونکہ کچھ رہنماؤں نے بائیکاٹ کی کال پر پارٹی کے موقف کی وضاحت چاہی تھی۔ لیکن ابھی تک ہماری پارٹی کا اس پر کوئی باضابطہ مؤقف نہیں ہے۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ یہ عوام کی طرف سے ایک کال ہے اور ہمارے کچھ رہنما اس کی حمایت کر رہے ہیں۔‘
دوسری جانب انڈین ریاست مغربی بنگال میں برسر اقتدار ترنمامول کانگریس کے رکن پارلیمان جواہر سرکار نے بنگلہ دیش میں پیدا ہونے والی اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
انھوں نے بنگلہ دیش میں جاری مہم پر تبصرہ کرتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا: ’ہر پڑوسی انڈیا سے ناراض ہے۔ پاکستان دہشت گردی کو فروغ دیتا ہے، چین نواز نیپال انڈین غنڈہ گردی سے نفرت کرتا ہے، لنکا کو تملوں اور باسزم کی وجہ سے (انڈیا کے ساتھ) مسائل ہیں، مالدیپ نے ہمیں لات مار کر باہر نکال دیا، بھوٹان چین کی طرف جھک رہا ہے، اور اب بنگلہ دیش میں ’انڈیا آؤٹ‘ تحریک سرگرم ہے۔‘
واشنگٹن میں مقیم بنگلہ دیشی صحافی مشفق الفضل انصاری نے اس بابت امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان میتھو میلر سے ایک سوال پوچھا۔ مشفق انصاری نے پوچھا کہ ’بنگلہ دیش میں ’انڈیا آوٹ‘ کی مہم زور پکڑتی جا رہی ہے۔ لوگ انڈین مصنوعات کا بڑے پیمانے پر بائیکاٹ کر رہے ہیں کیونکہ ان کا خیال ہے کہ انڈیا پس پردہ شیخ حسینہ کو اقتدار میں برقرار رکھنے کے لیے کام کر رہا ہے۔ آپ ان حالات کو کس طرح دیکھتے ہیں؟‘
اس کے جواب میں میتھو میلر نے کہا: ’ہمارے پاس اس مہم کی رپورٹس ہیں، لیکن ہم کسی صارف کے فیصلے پر کوئی تبصرہ نہیں کر سکتے، چاہے وہ بنگلہ دیش میں ہو یا دنیا کے کسی اور حصے میں۔ لیکن ہم بنگلہ دیش اور انڈیا دونوں کے ساتھ اپنے تعلقات کی قدر کرتے ہیں اور ہم دونوں ممالک کی حکومتوں کے ساتھ کام کرتے رہیں گے۔۔۔‘
