مسئلہ بلوچستان کی تفصیل
شاہد خان
دنیا
January 14, 2024
بلوچستان میں جنگ خان آف قلات کے بھائی پرنس کریم نے شروع کی جو خود کانگریسی تھا اور اس کی بیوی افغان شاہی خاندان سے تھی۔ وہ قلات کا الحاق انڈیا کے ساتھ کرنا چاہتا تھا بصورت دیگر آزاد رکھنے پر بضد تھا۔ قلات کے خان نے پاکستان کے ساتھ الحاق کیا تو یہ اپنی افغانی بیوی کے ساتھ افغانستان بھاگ گیا جہاں افغان حکومت نے فوری طور پر اس کو اپنی سرپرستی میں لے لیا-
یہ بلوچستان کی شورش کا آغاز تھا۔ نہ کوئی حقوق اور محرومی کا نعرہ نا کچھ اور۔ جنگ کی وجہ بھی محض ایک شخص کی ضد اور ہٹ دھرمی تھی جو اپنی ریاست قلات سے باغی ہوگیا تھا بعد میں اس شورش اور فساد میں نعرے تبدیل ہوتے گئے اور آج محرومی اور مسنگ پرسنز وغیرہ تک پہنچے ہیں اور بات قلات سے آگے بڑھ کر پورے بلوچستان کی آزادی پر آگئی۔ یہ جنگ قوم پرست سرخے کبھی جیت ہی نہیں سکتے۔ وہ خود بھی یہ بات بخوبی جانتے ہیں۔
اب یہ لوگ محض کرائے کے قاتل بن چکے ہیں جو انڈیا اور افغانستان کے لیے استعمال ہورہے ہیں جن کا مقصد محض بلوچستان کو غیر مستحکم رکھنا ہے جس حد تک بھی ممکن ہو۔ ان ‘مسنگ پرسنز’ سے ان سرخوں کے مفادات جڑے ہیں جو ان کو پہاڑوں میں بھیج کر خود پوری دنیا میں ان کے نام پر عیاشیاں کر رہے ہیں-
جہاں تک مسنگ پرسنز کی بات ہے تو بلوچستان میں یہ معمول بن چکا ہے کہ بلوچ اپنے جوانوں کو یونیوورسٹی پڑھنے بھیج دیتے ہیں۔ جہاں وہ بی ایس او جیسی تنظمیوں یا پرویز ہود بائی یا ندا کرمانی جیسے پروفیسروں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں جو انہیں بلوچستان کی محرومی و مظلومی کی داستانیں سنا سنا کر پاکستان کے خلاف تیار کرتے ہیں- بلوچوں کو بلوچستان کے الحاق، وسائل اور محرومی کے حوالے سے اب سچائیاں بتانی ہونگی۔ تاکہ وہ قوم پرست سرخوں اور دشمنوں کے ہاتھوں میں کھلونا بننا بند ہوں اور پورے پاکستان پر راج کرتے ہوئے اپنی حقیقی آزادی سے مستفید ہو سکیں۔
