ہندوستان میں صحافی برادری کے خلاف درجنوں مقدمات درج

مودی کے تیسری بار اقتدار میں آتے ہی بھارتی صحافت کو شدید نقصان پہنچا ۔ بھارتی غیر جانبدار صحافت اور آزاد میڈیا مودی سرکار کی انتہا پسندی کی بھینٹ چڑھ گئے ہیں۔
حال ہی میں صحافیوں کو مسلمانوں کے خلاف مظالم پر آواز اُٹھانے پر درجنوں مقدمات کا سامنا ہے۔ گزشتہ ہفتے بھارت میں ایک مسلمان شخص کو مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ مودی کے اہلکاروں کی جانب سے ریاست اُتر پردیش نے اس واقعے کو دبانے کی کوشش کی۔

مسلم شخص پر بے ہیمانہ تشدد کے حوالے سے لکھنے پر صحافیوں کو ڈرایا دھمکایا گیا۔ عالمی میڈکا کہنا ہے کہ بھارت میں صحافی برادری کو شدید ریاستی بندشوں کا سامنا ہے۔۔

اس سلسلے میں پولیس نے دو مسلمان صحافیوں، وسیم اکرم تیاگی اور ذاکر علی تیاگی پر مقدمات درج کئیے کیوں کہ دونوں صحافیوں نے سوشل میڈیا فورمز پر مسلمانوں کے حق میں آواز اُٹھائی تھی ۔بھارتی صحافی نے الجزیرہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ
بھارت میں آزادئ صحافت نہیں ہے، بطور صحافی ہم قتل کو قتل نہیں کہہ سکتے تو پھر اسے کیا کہیں؟ صحافی سوال نہیں اٹھائے گا تو کون کرے گا یہ تو صحافت کا گلہ گھوٹنے کے برابر ہے۔ ذاکر علی تیاگی کا کہنا ہے کہ
میں کچھ عرصے سے بھارت میں مسلمانوں پر تشدد کے واقعات پر لکھ رہا ہوں، مجھے اندازہ تھا کے ریاست میرے اوپر اس طرح کے مقدمات درج کرے گی۔ صحافیوں پر مقدمات درج کرنا اور ان کو ڈرانا دھمکانا مودی سرکار کا پرانا وطیرہ ہے۔۔

طاقت کے بے دریغ استعمال سے صحافیوں کی آواز کو دبانا انٹرنیشنل قوانین کی سراسر خلاف ورزی ہے۔ بھارت میں صحافیوں کے تحفظ کی کمیٹی کی نمائندگی کرنے والے کنال مجمودار نے کہا کہ ذاکر اور وسیم اکرم کے خلاف پولیس کا رویہ نہایت تشویشناک ہے۔ 2014 سے لیکر اب تک صحافی برادری بی جے پی کے ظلم کا شکار ہے اور مودی سرکار ریاستی سطح پر صحافیوں کو ہراساں کرنے میں مصروف ہے۔
ہندوستانی حکومت نے اس وقت جرم کو جرم کہنے والے صحافیوں پر زندگی اجیرن کر ركهى ہے۔

COMMENTS

Wordpress (0)
Disqus ( )