افغانستان میں طالبان کے مختلف دھڑوں کے مابین طاقت اور اقتدار کی کشمکش اب عالمی سطح پر بھی آنے لگی
افغانستان میں موجود طالبان کے مختلف دھڑوں خصوصاً قندھاری گروپ اورحقانی گروپ کی بین الاقوامی سطح پر حمایت حاصل کرنے کی کوشش اور اسرائیلی نمائندوں سے خفیہ ملاقاتیں جاری ہیں
5 جون 2024 کو امارت اسلامیہ کے قائم مقام وزیر سراج الدین حقانی نے متحدہ عرب امارات کہ اعلی عہدے داروں سے ملاقاتیں کی جو حقانی گروپ کی جانب سے بین الاقوامی، خصوصاً وسطی ایشیا اور عرب ممالک، کی حمایت حاصل کرنے کی ایک کوشش ہے۔ اسی کے ساتھ ساتھ حقانی گروپ کے حریف سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخونزادہ کا قندھاری گروپ بھی عالمی سطح حمایت حاصل کرنے کے لیے کوشاں نظر آرہا ہے۔ قندھاری گروپ کو قطر اور دیگر ممالک کی حمایت حاصل ہے۔
جبکہ سراج الدین حقانی کا متحدہ عرب امارات کا حالیہ دورہ اسی جدوجہد کی عکاسی ہے، کیونکہ حقانی گروپ ، ہیبت اللہ اخونزادہ کے بااثر دھڑے کے خلاف بین الاقوامی اتحادیوں کی تلاش میں ہیں۔اسی کے ساتھ ساتھ وزیر داخلہ سراج الدین حقانی نے دبئی میں اسرائیلی نمائندوں سے بھی خفیہ ملاقاتیں کی جس میں انہوں نے یہ تسلیم کیا کہ افغانستان کی جانب سے کبھی بھی اسرائیل کو تسلیم کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں رہا۔ بلکہ اسرائیل نے ہمیشہ طالبان کو ایران کا ایک قوی حریف جانچتے ہوۓ طالبان کو 1996 میں بھی تسلیم کیا تھا۔ 2021 میں طالبان کے مشیر سہیل شاہین نے اسرائیلی ٹی وی کو انٹرویو کے دوران تعلقات بہتر بنانے پر آمادگی کا اظہار کیا۔
حقانی اور قندھاری دھڑوں کے درمیان اقتدار کی جنگ 2021 سے جاری ہے، جب طالبان نے افغانستان پر قبضہ کیا۔ طالبان کے افغانستان پر قبضے کے بعد دونوں گروہوں کے مابین طاقت کے حصول کے لیے وقتاَ فوقتاً تنازعات سامنے آتے رہے لیکن یہ مسائل زیادہ تر ملک کے اندر تک ہی محدود رہے۔ البتہ اب یہ کشمکش بین الاقوامی سطح پر ابھر کر سامنے آرہی ہے۔
افسوس کی بات ہے کہ افغانستان اب خود کو تسلیم کرانے کے لیے اتنا نیچے گر چکا ہے۔ سراج الدین حقانی کا شمار ان لوگوں میں سے ہوتا ہے جو اقتدار کی خاطر اپنا دین ایمان بیچ دیتے ہیں۔ یہودیوں کے ساتھ ملاقاتوں کے بعد منافق سراج الدین حقانی حج کرنے نکل گئے۔
انتہائی افسوس کہ اپنے آپ کو اسلام کے محافظ کہ کر اقتدار کی حوص میں دونوں گروہ اتنے آگے بڑھ چکے ہیں کہ اب غلط اور صحیح میں فرق بھی نہیں کر پا رہے۔ افغان طالبان کے لیے کشمیر اور فلسطین میں مسلمانوں پے ہونے والے مظالم کی کوئی اہمیت نہیں ہے اور نا ہی ان کو کوئی پرواہ ہے-
امریکہ کی طرف سے عالمی دہشت گرد قرار دیئے جانے والے حقانی کے متحدہ عرب امارات میں حالیہ داخلے اور اسرائیلی نمائندگان سے ملاقاتوں نے افغانستان کے لیے نتائج کے بارے میں اہم تجسس اور قیاس آرائیوں کو جنم دے دیا ہے۔
دیکھنا ہوگا کہ طالبان اب کتنا اور گریں گے۔
