افغانستان میں موجود دہشتگرد خطے کے امن کے لیے بڑا خطرہ

افغان طالبان کے افغانستان پر قبضے کے بعد سے دہشتگردوں کے لیے افغانستان محفوظ پناہ کے طور پر ابھرا ہے۔ افغان طالبان کے اقتدار پر قابض ہونے کے بعد سے خطے میں دہشت گردی اور بدامنی کو ہوا ملی ہے۔
افغان طالبان براہ راست دہشت گردوں کو خطے میں بد امنی پھیلانے کے لیے محفوظ ٹھکانے فراہم کرنے میں ملوث پائے گئے ہیں ۔ ٹی ٹی پی اور دیگر دہشتگرد تنظیموں کو افغان طالبان کی جانب سے نہ صرف ٹھکانے بلکہ بھرپور مالی مدد بھی فراہم کی جاتی ہے۔ خطے میں مسلسل دہشتگردی اور بد امنی کو ہوا دینے میں افغان طالبان الہ کار کے طور پر عیاں ہو گئے ہیں۔ افغان طالبان کی سربراہی میں ٹی ٹی پی اور دہشتگرد تنظیموں نے افغانستان میں اپنے محفوظ ٹھکانے قائم کر رکھے ہیں۔
افغانستان سے ہونے والی دہشتگردی سے پورا خطہ بلخصوص پاکستان سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے ۔ آئے روز پاکستان سے افغان دہشت گردوں کی گرفتاری اور ان کے اعترافی بیان اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ افغان طالبان دہشت گردی کیخلاف کارروائی کرنے میں سنجیدہ نہیں ہیں ۔ افغانستان میں موجود دہشتگردوں کے حوالے سے اب عالمی طاقتیں بھی بول پڑیں۔
قازقستان میں شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے دفاع کا اجلاس ہوا جس میں افغانستان سے دنیا بھر میں ہونے والی دہشتگردی زیرِ بحث آئی۔
روسی وزیر دفاع کے مطابق ، خطے کو سب سے بڑا خطرہ افغانستان میں مقیم انتہا پسند دہشتگرد گروپوں سے ہے۔
افغان طالبان نے بارہا کہا ہے کہ افغان سرزمین کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی مگر زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔
روسی وزیر دفاع کا یہ بیان اس بات کی واضح طور پر عکاسی کرتا ہے کہ افغانستان میں پنپنے والی دہشتگردی اب دنیا کی نظروں میں واضح ہے۔
اب وقت آگیا ہے کہ بین الاقوامی طاقتیں افغانستان کی سرزمین سے دنیا بھر میں ہونے والے حملوں کیخلاف کارروائی کریں ورنہ دہشت گردی کا یہ ناسور پورے خطے میں پھیل جائے گا۔

COMMENTS

Wordpress (0)
Disqus ( )