اقوام متحدہ مشن برائے افغانستان کی سلامتی کونسل میں افغانستان سے متعلق سہ ماہی رپورٹ
اقوام متحدہ مشن برائے افغانستان نے افغان سرزمین پر جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے متعلق عالمی سطح پر بھرپور اۤواز اٹھائی ہے۔ اقوام متحدہ مشن برائے افغانستان کی سربراہ روزا اوتن بائیفا نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں افغانستان کی صورتحال پر سہ ماہی رپورٹ پیش کی۔
اوتن بائیفا کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ کے دفتر رابطہ برائے انسانی امور کے نمائندے اور افغان سول سوسائٹی کے ایک کارکن نے بھی سلامتی کونسل کے اجلاس میں شرکت کی۔ اس سے قبل امارت اسلامیہ نے درخواست دی تھی کہ اقوام متحدہ مشن برائے افغانستان اپنی رپورٹس میں افغانستان کے حقائق کی عکاسی کرے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ سلامتی کونسل، اقوام متحدہ اور اس کے اراکین جنرل اجلاس میں، افغانستان کے حوالے سے تباہ کن پالیسیوں کو تبدیل کروائیں گے اور افغان حکومت کو پرامن پالیسیوں کی جانب راغب کیا جائے گا۔ عالمی برادری کو چائیے کہ دنیا میں کہیں بھی ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں اپنا بھرپور کردار ادا کرے بالخصوص افغانستان میں خواتین کے حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف عملی اقدامات کرے۔
اوتن بائیفا نے اقوام متحدہ میں متحدہ عرب امارات کے مستقل نمائندے کے ساتھ ملاقات میں خوشحال افغانستان بالخصوص خواتین کے لیے اقوام متحدہ مشن برائے افغانستان کی کوششوں کو سراہا۔
رواں سال مئی میں جاری ہونے والی اپنی پہلی سہ ماہی رپورٹ میں اقوام متحدہ مشن برائے افغانستان نے افغانستان میں انسانی حقوق کی صورتحال میں تبدیلی نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔
