بھارتی حکومت ‘پیگاسس’ سافٹ ویئر سے صحافیوں کی جاسوسی کر رہی ہے

28 December 2023

Published in: VOA

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل اور امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے مشترکہ تحقیقات کے بعد شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ بھارتی حکومت جاسوسی کے سافٹ ویئر کے ذریعے ملک کے نامور صحافیوں کو نشانہ بنانے میں ملوث پائی گئی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صحافیوں کی جاسوسی کے لیے اسرائیل کی ایک کمپنی این ایس او کا بنایا گیا سافٹ ویئر پیگاسس استعمال ہوا ہے

۔ ایمنسٹی کے مطابق صحافیوں کی جاسوسی کا تازہ ترین واقعہ رواں برس اکتوبر کا ہے جس میں ‘دی وائر’ نامی ویب سائٹ کے بانی سدھارت ورادراجن اور کرپشن و منظم جرائم سے متعلق پراجیکٹس پر کام کرنے والے صحافی آنند منگنلے کے آئی فون میں جاسوسی کے سافٹ ویئر کی مدد سے دونوں کی جاسوسی کی گئی ہے۔ ایمنسٹی کی سیکیورٹی لیب کے سربراہ ڈنچا او سرب ہیل کا کہنا ہے کہ “ہم نے مشاہدہ کیا ہے کہ بھارتی صحافیوں کو کام کے دوران غیر قانونی نگرانی جیسے خطرات کا سامنا ہے۔ اس کے علاوہ سخت قوانین کے تحت انہیں جیلوں میں ڈالنا، ان کے خلاف منظم مہم چلانا، انہیں ہراساں کرنا یا دھمکیاں دینا وہ ہتھیار ہیں جو صحافیوں کو کام کرنے سے روکنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ بھارتی حکومت کی جانب سے مذکورہ رپورٹ پر فوری طور پر کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ البتہ وزیرِ اعظم نریندر مودی کی حکومت نے 2021 میں ان الزامات کی تردید کی تھی کہ وہ جاسوسی کے سافٹ ویئر کی مدد سے اپنے سیاسی مخالفین، سماجی ورکرز اور صحافیوں کی نگرانی کر رہی ہے۔

COMMENTS

Wordpress (0)
Disqus ( )