رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز (آر ایس ایف) کا بھارتی ظلم و ستم کا شکار کشمیری صحافیوں کی رہائی کا مطالبہ

پانچ سال بعد رہائی پانے والے آصف سلطان کی فوری دوبارہ گرفتاری نے بھارت کی غیر انسانی کاروائیوں کی حقیقت ایک بار پھر آشکار کردی۔ جو بھارتی عدالت کا صحافیوں پر ظلم و ستم عروج کوپہنچ چکا ہے جسکا منہ بولتا ثبوت ہے۔

دہشتگردی کے جھوٹے الزامات میں 5 سال قید گزارنے کے بعد آصف سلطان 28 فروری کو رہا ہوا، ابھی اپنے گھرپہنچ ہی پایا تھا کہ یکم مارچ 2024 کو بھارتی فوج کے ہاتھوں دوبارہ غیر انسانی طریقے سے گرفتار کرلیا گیا۔
2018 سے شروع ہونے والی آصف کی قید کشمیر میں صحافیوں کو اذیت دینے کے لیے دہشتگردی کے قانون کے غلط استعمال کی نمایاں مثال ہے۔ آصف سلطان کو برہان وانی کی دوسری برسی پر محض ایک آرٹیکل لکھنے پر گرفتار کرلیا گیا تھا۔ انہیں 2022 میں عدالت کی جانب سے رہائی ملی لیکن امن کیلئے خطرے کا الزام لگا کر فوری دوبارہ گرفتار کرلیا گیا۔

دسمبر 2023 میں عدالت کی جانب سے دوبارہ بری ہونے پر آصف کو 28 مارچ کو رہائی ملی۔ اس بار یکم مارچ کو آصف کی دوبارہ گرفتاری کی وجہ سری نگر جیل میں 2019 میں ہونے والا فساد بتائی گئی ۔
بھارت کے دہشت گردی کے قوانین کے تحت اس وقت قید دیگر چار کشمیری صحافیوں میں ؛ دی کشمیر والا کے سجاد گل ، جو جنوری 2022 سے جیل میں بند ہیں، کشمیر والا کے عبد العلا فاضلی جو اپریل 2022 میں گرفتار ہوئے، واندے میگزین کے عرفان مہراج، مارچ 2023 سے قید میں ہیں، فری لانس ماجد حیدری، ستمبر 2023 سے بھارتی ظلم و ستم کا شکار ہیں۔

آر ایس ایف کے مطابق ، مودی سرکار کی جانب سے آزاد میڈیا کی آوازوں کو دبانے اور کشمیر میں قابل اعتماد صحافتی کوریج کو روکنے کے لیے دہشت گردی کے قوانین کو سیاسی طور پر استعمال کیا جا رہا ہے ۔ ہندوستان میں عام انتخابات کے
پیش نظر ہم کشمیر میں صحافیوں کے تئیں پالیسی میں تبدیلی کا مطالبہ کرتے ہیں کہ بھارتی فوج کی ناقابل قبول زیادتیاں بند ہونی چاہئیں۔

کشمیر بدستور غیر ملکی میڈیا کے لیے ناقابل رسائی بن چکا ہے۔ 7 مارچ کو وزیر اعظم نریندر مودی کے سری نگر کے دورے کے دوران، غیر ملکی میڈیا کے 33 صحافیوں کو علاقے تک رسائی سے انکار کر دیا گیا تھا۔
12 فروری کو صحافیوں کے ایک گروپ کی جموں و کشمیر میں فوج کے شہریوں پر تشدد کے متعلق ایک تحقیقاتی رپورٹ کو بند کروادیا گیا۔
دریں اثنا، خطے میں گزشتہ پانچ سالوں میں انٹرنیٹ اور مواصلاتی بندش کی تعداد تین گنا بڑھ گئی ہے۔
انٹرنیٹ بندش کی تعداد 2013 سے 2018 کے دوران 122 تھی جوکہ 2019 سے 2024 تک 308 ہو گئی۔ آر ایس ایف کے 2023 ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس میں ہندوستان 180 ممالک میں 161 ویں نمبر پر ہے۔

COMMENTS

Wordpress (0)
Disqus ( )