لاپتہ افراد کا پروپگینڈا – بلوچستان کی ترقی روکنے کی مذموم کوشش
پاکستان میں مسنگ پرسنز کا بیانیہ پروپیگنڈے کی شکل اختیار کر چکا ہے، دیکھا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ ملک دشمن ایجنسیوں کے ساتھ مل کر پاکستان کی ترقی کے مخالف گروہ منفی تاثر پھیلا کر ملکی اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی کر رہے ہیں جس کا بنیادی مقصد عوام کو متنفر کرنا ہے اور ان میں مایوسی پھیلا کر اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل شامل ہے۔
بلوچستان قدرتی وسائل سے مالامال سرزمین ہے جس میں بہت سے وسائل ہیں – اس وقت بلوچستان میں دوسرے ترقیاتی منصوبوں کے علاوہ گوادر پورٹ اور ریکوڈک پروجیکٹ پر تیزی سے کام جاری ہے جو یقیناً بلوچستان اور پاکستان کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گا، انہی ترقیاتی منصوبوں سے خوفزدہ دشمن عناصر کی جانب سے ایک طرف دہشت گردی اور دوسری طرف پروپیگنڈے کیے جاتے ہیں تاکہ نہ صرف وہاں کی عوام میں مایوسی پھیلائی جائے بلکہ کسی نہ کسی طرح ان ترقیاتی کاموں کو روکا جا سکے۔کچھ لوگ لاپتہ افراد کے معاملے پر سیاست کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جیسے اختر مینگل، جنہوں نے دعویٰ کیا کہ 5000 افراد لاپتہ ہیں لیکن ان کے بارے میں تفصیلات فراہم کرنے میں ناکام رہے۔ جب کہ کچھ عناصر پاکستان اور مسلح افواج کو بدنام کرنے کے لیے اس معاملے کو دشمن ایجنسیوں کی جانب سے اٹھاتے ہیں۔
لاپتہ افراد کا مسئلہ درحقیقت ایک اہم معاملہ ہے،مگر غور طلب بات یہ ہے کہ گوادر پورٹ کمپلیکس پر حالیہ دہشت گردانہ حملے میں بی ایس او سے وابستہ آٹھ دہشت گردوں میں سے ایک کریم جان بھی 2022 سے لاپتہ تھا، جب کہ اس کے اہل خانہ اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ لاپتہ افراد کے حوالے سے احتجاج کا حصہ تھے۔ .کریم جان کی بہن نے لاش وصول کرتے ہوئے اپنے بھائی کی بی ایل اے سے وابستگی کا اعتراف کیا۔
یہ پہلا واقعہ نہیں، اس سے قبل مچھ حملے میں ایک دہشت گرد عبدالودود ستاکزئی بھی کافی عرصے سے لاپتہ تھا۔ اس طرح کے واقعات ماضی میں بھی ہوچکے ہیں -لاپتہ افراد میں سے بہت سے دہشت گردانہ سرگرمیوں میں مارے گئے، جب کہ دیگر رضاکارانہ یا غیر قانونی طریقے سے عراق، شام اور افغانستان گئے، اور شاید انہیں بیرون ملک قید کیا جا چکا ہو، جب کہ دیگر نے بیرون ملک سیاسی پناہ کی درخواست کی ہے۔
مہرنگ بلوچ نے خود اعتراف کیا کہ ایران میں پاکستان کے فضائی حملے میں مارے گئے لوگ دراصل ان کے لوگ تھے۔ اگر انہیں پہلے ہی ان لوگوں کے ٹھکانے کا علم ہے تو پھر انہیں لاپتہ کیسے سمجھا جا سکتا ہے۔ دوسری طرف لاپتہ افراد کے بیانیے میں 5th جنریشن وارفیئر کا استعمال کیا جا رہا ہے- بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں کے ذریعے ریاست پر دباؤ ڈالنے کے لیے دہشت گردانہ سرگرمیاں انجام دی جاتی ہیں، جنہیں سیاسی بیانیے کی حمایت حاصل ہوتی ہے۔ پہلے مرحلے میں نوجوان طلباء کو بھرتی کیا جاتا ہے جن کا ریاست اور مسلح افواج کے خلاف برین واش کیا جاتا ہے۔ پھر انہیں دہشت گرد تنظیموں کے پاس منتقل کر دیا جاتا ہے، جس کے بعد وہ اپنے گھر والوں کو چھوڑ دیتے ہیں اور پھر لاپتہ افراد کی داستان گھڑتے ہیں۔ بلوچستان کے لوگوں کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ سیاسی حلقے اس مسئلے کو صرف سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں ۔ اگر وہ واقعی اس مسئلے کو حل کرنا چاہتے ہیں تو حقائق اور اعداد و شمار باشمول ثبوتوں کے اسٹیک ہولڈرز سے بات چیت کرنی چاہیے ۔
لاپتہ افراد کا بیانیہ ریاست مخالف قوتوں کی جانب سے بلوچستان کی ترقی کو روکنے کے لیے پھیلایا جا رہا ہے جس کا مقصد خصوصا گوادر پورٹ اور اب ریکوڈک پروجیکٹ کو نقصان پہنچانا ہے ۔
یہاں یہ مسئلہ غور طلب ہے کہ مسنگ پرسنز کے نام پر سیاست سے دراصل ملک بالخصوص بلوچستان میں میں ففت جنریشن وارفیئر پھیلائی جا رہی ہے تاکہ عوام کا دھیان اس طرح کے پروپیگنڈوں میں الجھ جائے اور ملک ترقی کرنے سے قاصر رہے اور بالخصوص گوادر اور ریکوڈک جیسے اہم منصوبے کھٹائی میں پڑ جائیں۔
