مدارس رجسٹریشن حقیقت اور افسانہ

حالیہ چند ایام میں کچھ مذہبی عناصر کی طرف سے مدارس کی رجسٹریشن اور اس کے طریقہ کار پر چند سوالات اٹھائے گئے ہیں اور یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی ہے کہ ان کی طرف سے مدارس کی رجسٹریشن نہ کروانے کی وجہ حکومتی پالیسی ہے۔ اسی ضمن میں ڈی جی- آئی ایس پی آر کے ایک بیان کو میڈیا میں مختلف رنگ دینے کی کوشش کی گئی۔ اسی طرح ماضی قریب و بعید میں بھی چند علمائے کرام کی طرف سے یہی رویہ اپنایا گیا – اب اتحاد تنظیمات المدارس جو کہ سٹیٹس کو پر اصرار کرتے ہوئے گورے کے بنائے ہوئے1860 کے ایکٹ کے تحت مدارس کی رجسٹریشن پر بضد ہے یہ ایکٹ سوسائٹیز کی رجسٹریشن کے بارے میں ہے جبکہ اسکی صرف ایک شق مدارس کی رجسٹریشن کے متعلق ہے۔

میرا ان علماء کرام سے، جو کہ گورے کے قانون کے تحت مدرسوں کی رجسٹریشن پر اصرار کر رہے ہیں، سوال ہے کہ کیا مدارس کو وفاقی تعلیم کے ساتھ ہونا چاہیے یا پھر 1860 سوسائٹیز کے ایکٹ کے تحت جو کہ انگریز نے اپنے فائدے کے لیے بنایا؟ حقیقت یہ ہے کہ جب تک تمام سکول و کالجز بشمول مدارس محکمہ تعلیم کے ساتھ منسلک نہیں ہوں گے یکساں نصاب کی امپلیمنٹیشن کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا -آئیں ملک کی عزت و توقیر اور اس کے روشن مستقبل کی خاطر گورنمنٹ اور پرائیویٹ سکول و کالجز اور یونیورسٹی کی طرح مدارس کو بھی ایک ہی دھارے میں لانے کے اس احسن اقدام کو سپورٹ کریں- حکومتی ادارے ہر وقت تعاون کے منتظر ہیں-

COMMENTS

Wordpress (0)
Disqus (0 )