مودی کے دور حکومت میں بھارتی سر زمین خواتین پر تنگ
بی جے پی کے سائے تلے پلنے والے غنڈوں کا خواتین کے ساتھ ناروا سلوک کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ اقتدار کی ہوس اور طاقت کے نشے میں دھت مودی سرکار اپنی ہی خواتین کے لیے وبال جان بن گئی۔
بی جے پی کی اتحادی جماعت کے کارندے پراجول ریوانا جس پر 400 سے زائد خواتین کی عصمت دری کرنے کا الزام تھا اب جنسی ہراسانی کا چوتھا مقدمہ بھی درج ہو چکا ہے۔
بی جے پی کے سابق ایم ایل اے پریتم گوڑا پر بھی جنسی ہراسانی کا مقدمہ درج ہوا۔
ریوانا پر انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کے ایک سیکشن کے تحت خواتین کی تصاویر کو خفیہ طور پر ریکارڈ کرنے اور تقسیم کرنے کا بھی مقدمہ درج کیا گیا۔
انڈین ایکسپریس کی خبر کے مطابق پہلی معلوماتی رپورٹ میں تین دیگر افراد کا نام بھی شامل ہے جن میں ہاسن سےبھارتیہ جنتا پارٹی کے سابق ایم ایل اے پریتم گوڈا بھی شامل ہیں۔ پرجول ریوانا کے بھائی سورج ریوانا کو بھی فارم ہاؤس میں پارٹی کے ایک مرد کارکن کے ساتھ جنسی زیادتی کے الزامات کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔
بھارتی جریدے کے مطابق پراجول ریوانا400 خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی جیسا سنگین جرم کرنے کے باوجود جرمنی فرار ہو گیا تھا ۔
پراجول ریوانا اپنے سفارتی پاسپورٹ کا استعمال کرتے ہوئے 27 اپریل کو یورپ فرار ہو ا تھا اور 31 مئی کو بنگلورو واپسی پر اسے گرفتار کر لیا گیا تھا۔پراجول ریوانا پر یہ الزام بھی عائد ہے کہ اس نے خواتین کے ساتھ 2800 سے زائد بد سلوکی کی ویڈیوز کو بلیک میل کرنے کے لیے استعمال کیا۔
رواں سال اپریل میں پراجول ریوانا کے ہاتھوں مبینہ زیادتی کا نشانہ بننے والی بنگلور کی سابق کونسلر نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ ریواناجو بھارت سے فرار ہوا ہے اس نے مجھے مسلسل زیادتی کا نشانہ بنایا ۔
متاثرہ خاتون نے مودی پر الزام لگایا کہ مودی سرکار کو بارہا اس کیس کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا لیکن اسکے باوجود مودی نے کوئی ایکشن نہیں لیا۔ ایک اور متاثرہ خاتون نے پراجول پر الزام لگایا کہ وہ 2 سال اسے زیادتی کا نشانہ بناتا رہا اور اسے قتل کرنے کی بھی دھمکیاں دیتا رہا۔ راہول گاندھی نے مودی سرکار کا اصل چہرہ بے نقاب کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی پہلے سے ان الزامات سے واقف تھی ۔
یہ جنسی اسکینڈل نہیں ہے بلکہ اجتماعی عصمت دری ہے اور مودی سرکار نے اجتماعی زیادتی کرنے والے کی حمایت کی ہے، راہول گاندھی
کانگریس کی جنرل سیکٹری پرینکا گاندھی نے بھی خاموش رہنے پر بی جے پی اور مودی پر کڑی تنقید کی تھی ۔ مودی سرکار نے روایتی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پراجول ریوانا سے لا تعلقی کا اظہار کر کےسوالات کا جواب دینے سے انکار کر دیا تھا
