نوشکی سانحہ اور ہمارا دہرا معیار
انصار عباسی
جنگ
میڈیا، سیاستدان، انسانی حقوق کی تنظیمیں بلوچستان میں گمشدہ افراد کے مسئلہ پر بہت بات کرتی ہیں، اس پر دھرنے، لانگ مارچ اور مظاہرے بھی کیے جاتے ہیں جس پر کسی کو اعتراض نہیں ہو سکتا لیکن بلوچستان میں بسوں سے اتار اتار کر پنجاب سے تعلق رکھنے والے افراد کی بہیمانہ قتل و غارت پر کیوں ایسے ہی بات نہیں کی جاتی۔ بلوچستان میں گمشدہ افراد کو بلوچ دہشتگرد تنظیموں سے جوڑا جاتا ہے اور یہی وہ تنظیمیں ہیں جو پنجاب سے تعلق رکھنے والے معصوم افراد کو بسوں سے اتار اتار کر قتل کرتی ہیں۔
بلوچستان کی محرومیوں اور وہاں کے رہنے والوں کے مسائل کو حل کرنا وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہے۔ یہ بھی ریاست کی ذمہ داری ہے کہ قانون کے مطابق کسی بھی غیر قانونی عمل یا دہشتگردی میں شریک افراد سے نمٹاجائے لیکن سوال یہ بھی پوچھا جانا چاہیے کہ حقوق کے نام پر کتنے بے قصور ڈاکٹروں، پروفیسروں، اساتذہ، کاروباری افراد، محنت کشوں کو محض اُن کی کسی مخصوص علاقہ سے شناخت کی بنیاد پر قتل کیا گیا۔ یہ ظلم رکنا چاہیے اور اس ظلم کو ظلم کہتے ہوئے کسی کو ہچکچاہٹ کا اظہار نہیں کرنا چاہیے۔
