نیا بیانیہ
روخان یوسف زئی
26 November 2023
ایکسپریس
یہ امر خوش آئند ہے کہ نئے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی قیادت میں فوج کا سیاسی عمل اور حکومت بنانے یا گرانے میں کوئی عمل دخل کا ایک نیا بیانیہ سیاسی جماعتوں سمیت عوام میں بھی پسند کیا جارہا ہے۔ لہذا یہ بہت بڑی پیش رفت ہے۔
بعض سیاسی جماعتوں کو اپنے اداروں کو شک اور بدگمانی کی نظروں سے نہیں دیکھنا چاہئے ، ملک میں آنے والے عام انتخابات سے قبل اداروں پرلیبلز ،پسند ناپسندکے ٹھپے اور الزام تراشیوں سے اس وقت تک اجتناب کرنا چاہیئے جب تک کچھ سامنے نہ آئے۔ اگر اب بھی بعض سیاسی قائدین اپنی پرانی باتوں سے باز نہیں آئے تو اس سے اسٹیبلشمنٹ اوران کے مابین دوریاں پیدا ہوں گی۔
اس سلسلے میں خوش آئند امر یہ ہے کہ گزشتہ دنوں فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر نے تمام مذہبی جماعتوں کے قائدین کو دعوت دی اور ملک میں موجودہ انتہا پسندی، شدت پسندی، فرقہ واریت اور دیگر اہم ایشو پر بریفنگ دی اور صاف صاف بتایا گیا کہ ہمیں مل جل کر ان جڑوں کو کاٹنا ہوگا ، ان باتوں اور سیاست سے اجتناب برتنا ہوگا جن سے دنیا میں ہمارا امیج خراب ہوتا جائے۔ مذکورہ اجلاس کو اکثر تجزیہ نگار ملک میں پائی جانیوالی سیاسی بے یقینی پر قابو پانے کی ایک کوشش بھی قرار دے رہے ہیں ۔
لہٰذایہ ایک قابل تعریف اقدام ہے تاکہ اداروں کے خلاف جو لوگ جو کچھ بول رہے یا ملکی اور عالمی سطح پر ان اداروں کے بارے میں جو شکوک اور بدگمانیاں پیدا کر رہے ہیں۔ اب ان لوگوں کو سمجھنا ہوگا کہ حالات بدل چکے ہیں اور مزید بھی سیاسی اور دفاعی تبدیلیاں رونما ہوں گی۔ یہ ملک رہے گا تو ہم بھی رہیں گے ورنہ۔۔۔۔۔ تاہم جو قو تیں بھی ملک میں انار کی، انتشار اور لاقانونیت پھیلانے کی کوشش کرتی ہیں ان سے آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے سختی سے نمٹنا بھی چاہیئے ۔
