پاکستان میں ’ڈیجیٹل دہشت گردی’ کے خلاف خصوصی عدالتیں قائم
Publishing date: 24 July 2024
Published in: DW
حکومت کے مطابق ان خصوصی عدالتوں کا مقصد “ڈیجیٹل دہشت گردوں” اور ورچوئل ورلڈ میں ڈیجیٹل مواد کے ذریعہ “ریاست مخالف پروپیگنڈا” پھیلانے والوں پر نکیل کسنا ہے۔ یہ عدالتیں ‘پیکا ایکٹ’ 2016 کے تحت قائم کی گئیں ہیں۔
پاکستان کی وفاقی حکومت نے سوشل میڈیا پر ریاستی اداروں اور اعلیٰ شخصیات کے خلاف پروپیگنڈا اور نفرت پھیلانے والے عناصر کے خلاف گھیرا تنگ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس نے منگل کے روز الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے قانون (پیکا) 2016 کے تحت اسلام آباد میں خصوصی عدالتوں کے قیام کا اعلان کیا۔
حکومت کا کہنا ہے کہ ان عدالتوں میں ڈیجیٹل دہشت گردوں اور ورچوئل ورلڈ میں ڈیجیٹل مواد کے ذریعہ ریاست مخالف پروپیگنڈا پھیلانے میں مبینہ طورپر ملوث افراد کے خلاف مقدمہ چلایا جائے گا۔
پاکستان کی وزارت قانون کی طرف سے جاری بیان کے مطابق ان خصوصی عدالتوں کے قیام کا فیصلہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے 2 جون کے فیصلے کی روشنی میں اور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے مشاورت کے بعد کیا گیا اور اس کے لیے وفاقی کابینہ کی منظوری لی گئی ہے۔
پاکستانی فوج کا بیان
دلچسپ بات یہ ہے کہ وفاقی حکومت کے اس فیصلے سے ایک دن قبل ہی پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا تھا کہ فوج اور اس کی قیادت کے خلاف سوشل میڈیا پر ‘ڈیجیٹل دہشت گردی’ فعال ہے۔ انہوں نے کہا تھا،”ڈیجیٹل دہشت گرد جعلی خبروں کی بنیاد پر فوج، اس کی قیادت اور فوج اور عوام کے درمیان تعلقات پر حملہ کر رہے ہیں۔”
پیر کے روز ایک پریس کانفرنس کے دوران، انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل نے کہا تھا کہ قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں پر حملوں میں ملوث انتہاپسندوں اور’ ڈیجیٹل دہشت گردوں’ کا فوج اور اس کی قیادت کو نشانہ بنانے کا مشترکہ مقصد تھا۔
ان کا مزید کہنا تھا، ”ڈیجیٹل دہشت گرد” معمول کی دہشت گردوں کی طرح ہی معاشرے پر اپنی مرضی مسلط کرنے کے لیے موبائل فون، کمپیوٹر، جھوٹ، جعلی خبروں اور پروپیگنڈا جیسے آلات استعمال کر رہے ہیں۔ ” اور اگر “ڈیجیٹل دہشت گردوں کو نہ روکا گیا تو انہیں مزید اسپیس ملے گا۔ اس لیے ہم ان غیر قانونی عناصر کو اجازت نہیں دے سکتے، جو اس ملک کو ایک نرم ریاست بنانا چاہتے ہیں۔”
