پاکستان کے خلاف ٹی ٹی پی کے ہاتھوں امریکی اسلحے کا استعمال، یہ اسلحہ کہاں سے آیا

19 November 2023

تحریکِ طالبان تک ہتھیاروں کی رسائی نے خطے کے امن و استحکام کو خاطر خواہ نقصان پہنچایا ہے۔ ان دہشتگردوں کو ہتھیاروں کی فراہمی میں افغانستان کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ حالیہ دنوں میں، امریکی ہاؤس کمیٹی برائے خارجہ امور کے چیئرمین مائیکل میکول نے براہِ راست کہا ہے کہ افغانستان ٹی ٹی پی کو پاکستان کے خلاف مسلح کرنے میں مدد فراہم کر رہا ہے۔
اس سے قبل، پینٹاگون کی رپورٹ نے بھی ٹی ٹی پی کا پاکستان کے خلاف امریکی ہتھیار استعمال کرنے کا راز فاش کیا تھا۔ پینٹاگون کے مطابق ، 30 اگست 2021 میں امریکی انخلاء کے بعد 7.12 ارب ڈالر کا دفاعی سامان اور افغان فوج کو کل 427,300 فراہم کیے گئے جنگی ہتھیار وں میں سے 300,000 انخلا کے وقت افغانستان میں باقی رہ گئے تھے۔ امریکی انخلاء کے بعد یہ ہتھیار امارت اسلامیہ کی نگرانی میں آگئے اور بعد ازاں پاکستان مخالف گروہوں کے ہاتھوں تک پہنچ گئے۔
انہیں ہتھیاروں نے ٹی ٹی پی اور بلوچ علیحدگی پسند گروہوں کو عسکری طور پر مضبوط کیا۔ جس کی بناء پر خطے میں گزشتہ دو سالوں کے دوران دہشت گردی میں وسیع پیمانے پر اضافہ دیکھا گیا۔
مزید برآں ، امریکہ نے 2005 سے اگست 2021 کے درمیان افغان قومی دفاعی اور سیکیورٹی فورسز کو 18.6 ارب ڈالر کا سامان فراہم کیا۔ امارت اسلامیہ کی اس کھلی چھوٹ کی وجہ سے ٹی ٹی پی کو جدید اسلحہ میسر آیا جس میں M24 سنائپر رائفل، M4 کاربائنز اور M16A4 جیسے جدید اسلحے شامل ہیں۔

امارت اسلامیہ کے سابق کمانڈروں نے رضامندی سے ان ہتھیاروں کی کافی مقدار ٹی ٹی پی کے حوالے کی۔ ان ہتھیاروں نے ٹی ٹی پی کو سرحد پار کارروائی کرنے میں مدد دی۔ ان ہتھیاروں کے توسط سے ٹی ٹی پی نے پشاور، لکی مروت، بنوں، اور ڈیرہ اسماعیل خان میں دہشتگردانہ کارروائیاں کیں اور پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنایا۔
اسی طرح ، 2022 میں خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں مجموعی طور پر 118 پولیس اہلکار جاں بحق ہوئےاور 2023 کے پہلے چار ماہ میں پولیس کے 120 اہلکار ٹی ٹی پی کا نشانہ بنے۔
بلوچ لبریشن آرمی نے بھی انہی ہتھیاروں کا استعمال کرتے ہوئے فروری 2022 میں نوشکی اور پنجگور اضلاع میں ایف سی کیمپوں پر حملے کیا اور 12 جولائی 2023 کو ژوپ گیریژن پر ہونے والے حملے میں بھی ٹی ٹی پی کی جانب سے امریکی اسلحے کا استعمال کیا گیا۔

اس واقعے سے قبل 16 مئی 2023 کو ٹی ٹی پی نے چند تصاویر شیئر کی جن میں ٹی ٹی پی دہشت گردوں کو ٹریننگ کرتے ہوئے دکھایا گیا۔ تصاویر میں یہ جنگجو جدید دفاعی اسلحے سے لیس نظر آتے ہیں جس میں تھرمل ویژن والا ہیلمٹ، رائفلیں اور لیزر سائٹس شامل تھیں۔

یہ تمام حقائق اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ امارت اسلامیہ نہ صرف ٹی ٹی پی کو مسلح کر رہی ہے بلکہ دیگر دہشت گرد تنظیموں کے لیے محفوظ راستہ بھی فراہم کر رہی ہے۔ جس سے خطے کے امن ، استحکام اور سیکیورٹی کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔

COMMENTS

Wordpress (0)
Disqus ( )