بھارت میں مسلم خواتین نشانے پر

عبدالواجدخان

نواۓ وقت

بھارت کے آئین کو دیکھا جائے تو بظاہر ایک سیکولر ملک کے آئین کی طرح نظر آئے گا جہاں ہرشخص کواپنی بات کہنے یامخالفت کرنے کاجمہوری حق عطاکیا گیا ہے۔ بھارت کے آئین میں بھارت میں بسنے والے تمام مذاہب کے ماننے والوں کواپنے مذہبی تشخص کے ساتھ جینے کا،مذہب پرآزادی کے ساتھ عمل کرنے کااورمذہبی ادارے چلانے اوران کی بقاوتحفظ کے برابرحقوق حاصل ہیں لیکن افسوس بھارت اس وقت انتہا پسندانہ نظریات والے حکمرانوں کے نرغے میں ہے جنھوں نے ملک کے آئین اور قانون کو پاؤں تلے روند کر ہندو توا کے ایجنڈے کو بڑھایا ہے۔

مودی حکومت پورے بھارت میں آر ایس ایس کی حلیف ذیلی تنظیموں کے ذریعے مسلم لڑکیوں کو مختلف ہتھکنڈے استعمال کرکے غیر مسلم لڑکوں سے شادی کرنے پر اکسا رہی ہے۔ اس مہم میں ہندو لڑکوں کو کامیاب کرنے کے لیے خطیر رقم دی جاتی ہے تاکہ وہ انہیں محبت کے جال میں پھنسانے اور اپنی خلوت گاہ تک لے جانے میں کامیاب ہوجائیں اور پھر بلیک میلنگ کا دروازہ کھول کر ارتداد کی راہ ہموار کی جاسکے۔بھارت کے مختلف حصوں مثلاً ممبئی،آگرہ، یوپی، جھار کھنڈ، دہلی اور بہار کے بہت سارے اضلاع سے اس قسم کی تشویشناک، المناک اور پریشان کن خبریں ہر دن موصول ہو رہی ہیں۔ اس طرح ان لڑکیوں کو دین وایمان سے بے زار کرکے ہندو مذہب میں داخل کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔

مودی کے اقتدارمیں آنے کے بعدبھارت کاچہرہ تیزی سے ایک متعصب تنگ نظر اور تشدد پسند ہندو ریاست میں تبدیل ہو رہا ہے، تنگ نظر ہندو ازم کا زہر پوری ریاست میں پھیل رہا ہے اور اقلیتوں کو مختلف ہتھکنڈوں سے ختم کیاجارہاہے۔ عیسائیوں، مسلمانوں اور سکھوں کو یہ کہہ کر ان کا استحصال کیا جا رہا ہے کہ وہ اپنی اپنی ریاستوں میں چلے جائیں کیونکہ بھارت صرف ہندوئوں کی سرز مین ہے۔

COMMENTS

Wordpress (0)
Disqus ( )