پاکستان کی سرحدی پالیسی میں تبدیلی۔
افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے مہلک نقصانات کے پیش نظر، بڑے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے حکومت پاکستان نے ایک نئی پالیسی متعارف کرائی ہے۔
روایتی چمن بارڈر کراسنگ اسپن بولدک کے راستے افغانستان سے بڑھتے ہوئے سیکیورٹی خطرات اور اسمگلنگ کی سرگرمیوں کے باعث بند کردی گئی ہے۔ بدقسمتی سے، چمن کے زیادہ تر مقامی لوگ تجارت اور دیگر کاروبار جیسی روزی روٹی کمانے کے لیے چمن کراسنگ پر پوری طرح سے منحصر ہیں۔ چمن کے مقامی لوگوں اور افغان تاجروں کو معاوضہ دینے کے ساتھ ساتھ سیکورٹی اور معاشی مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت بلوچستان نے 12 کور کے تعاون سے چمن شہر میں “ٹرانزٹ ٹریڈ مارکیٹ” کا آغاز کیا ہے۔ یہ ٹرانزٹ ٹریڈ مارکیٹ نہ صرف پاکستان کی معیشت کے لیے فائدہ مند ہے، بلیک مارکیٹ اور اسمگلنگ کو روکتی ہے، بلکہ یہ دونوں ممالک کے تاجروں کو صاف اور شفافیت کے ساتھ کاروبار کرنے میں بھی سہولت فراہم کرے گی۔
ٹرانزٹ ٹریڈ مارکیٹ کے قیام کے علاوہ، حکومت بلوچستان نے تاجروں کو معاوضہ دینے کے لیے فنڈز مختص کیے ہیں، جن میں 19,000 افراد کو ‘بینظیر انکم سپورٹ پروگرام’ کے ذریعے ماہانہ 20،000 پاکستانی روپے دیئے جائیں گے۔
مزید برآں، حکومت نے تمام سابقہ بارڈر کراسنگ اور کراس بارڈر ٹریڈنگ پروٹوکول جیسے “ایک دستاویزی نظام” اور “تذکرہ کارڈ” کو مسترد کر دیا ہے۔ حکومت کی نئی پالیسی کے مطابق مناسب ویزا رکھنے والے افراد کو پاکستان میں داخل ہونے اور نئی قائم ہونے والی ٹرانزٹ ٹریڈ مارکیٹ کے ذریعے اپنی کاروباری سرگرمیاں انجام دینے کی اجازت ہوگی۔ دوسری طرف، امارت اسلامیہ کی حکومت، غیر قانونی اسمگلنگ مافیاز کے ساتھ مل کر، مقامی لوگوں کو اس پالیسی کے خلاف اکسارہی ہے، کیونکہ یہ اسمگلنگ اور دیگر مجرمانہ سرگرمیوں کو مکمل طور پر ختم کردے گی، جو چمن بارڈر کراسنگ پر ہورہی ہیں۔
