انتخابی بانڈ – بھارت کی تاریخ کا سب سے بڑا انتخابی سکینڈل

الیکٹورل بانڈ کے نام پر کارپوریٹ سیکٹر سے عطیات کے ذریعے مودی سرکار نے 12930 کڑور حاصل کیے۔
عطیات کے بدلے میں مودی سرکار نے نجی کمپنیوں پر سرکاری پروجیکٹس اور ٹینڈرز کی بارش کردی۔
حال ہی میں بی جے پی نے انتخابی مہم کے لیے چندہ جمع کرنے کے لیے پورٹل کا آغاز کیا اور سوشل میڈیا پر اپنے عطیات کی رسیدیں بھی پوسٹ کیں۔ بی جے پی کے وزراء نے سوشل میڈیا پر محض 1000 سے 2000 تک کے عطیات کی رسیدیں پوسٹ کیں۔ بی جے پی کے اہلکاروں کی رسیدوں سے اندازہ لگایا جائے تو کل 1 لاکھ بھی نہیں بن پاتے تو پارٹی فنڈز میں تقریباً 13 ہزار کڑور کیسے موجود ہیں؟
سکرول، نیوز لانڈری اور نیوز منٹ جیسی ویب سائٹس پر مودی سرکار کے گھپلے کی تحقیاتی رپورٹ شائع کی گئی جس میں ثابت کیا گیا کہ الیکٹورل بانڈ کے نام پر تاریخ کی سنگین ترین دھاندلی کی گئی۔ مودی سرکار نے ہزار دو ہزار کے چندوں کی رسیدیں عطیہ کرنے والوں کے نام اور تصویروں کیساتھ پبلک کیں جبکہ سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود بی جے پی نے کڑوروں کے عطیات دینے والی کارپوریٹ کمپنیوں کی معلومات دینے سے یہ کہہ کے انکار کردیا کہ عطیہ دینے والوں کے نام انکی مرضی کے مطابق ریکارڈ ہی نہیں کیے گئے ۔

سٹیٹ بینک آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق الیکٹورل بانڈ کے ذریعے ملنے والے عطیات میں سے محض 2000 کڑور سے بھی کم کانگرس کو ملے جبکہ بی جے پی کو 13 ہزار کڑور ملے۔

معروف صحافی پونم اگروال نے بھی اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں الیکٹورل بانڈ کے نام پر ہونے والی دھاندلی کا راز فاش کیا ۔
پونم اگروال نے اپنی تحقیق کے دوران سٹیٹ بینک آف انڈیا سے الیکٹورل بانڈ خریدا اور پھر اسکا فرانزک ٹیسٹ بھی کروایا جس سے مودی سرکار کے گھپلے کے واضح ثبوت سامنے آئے۔
سکرول اور نیوز لانڈری کی رپورٹ کے مطابق ای ڈی، سی بی آئی اور آئی ٹی نے 40 سے زائد کارپوریٹ کمپنیز پر چھاپے مارے جن کے نتیجے میں انہوں نے قانونی کارروائی سے بچنے کے لیے مودی سرکار کو کڑوروں کے عطیات دیے ۔

رپورٹ کے مطابق 2020 کے بعد سے بی جے پی کی آمدنی میں 23 فیصد تک اضافہ ہوا۔ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے بی جے پے پر وزراء اور کاروباری شخصیات کو اغواء کرکے عطیات حاصل کرنے کے الزامات بھی لگائے ہیں۔ مختلف میڈیا چینلز کی نجی تحقیقاتی رپورٹس سے بھی ثابت ہوا کہ بی جے پی نے تشدد کا استعمال کرتے ہوئے عطیات وصول کیے۔ 35 فارماسیوٹیکل کمپنیوں نے مجموعی طور پر 1000 کڑور کا عطیہ دیا جن میں سے 7 کمپنیاں ایسی تھیں جن کیخلاف خراب دوا بنانے کے مقدمات چل رہے تھے جو اب اچانک ختم ہوگئے ہیں۔

COMMENTS

Wordpress (0)
Disqus ( )