عام انتخابات کے قریب آتے ہی بھارتی میڈیا کے گرد گھیرا تنگ

حال ہی میں الجزیرہ نے بھارتی میڈیا کے حوالے سے مفصل رپورٹ شائع کی۔ اپریل 2024 میں بھارت میں انتخابات متوقع ہیں جس میں میڈیا کا کردار نہایت اہم تصور کیا جاتا ہے۔
الجزیرہ کی رپورٹ منظرعام پر آنے کے بعد نام نہاد آزاد بھارتی میڈیا کا انتخابات کے قریب آتے ہی پول کھل گیا۔ اب بھارتی میڈیا مکمل طور پر مودی اور بی جے پی کے زیر اثر آ چکا ہے۔ مودی کے زیر تسلط بھارتی میڈیا کی توجہ ملک کے اہم معاملات کی بجائے فرقہ وارانہ مسائل، پاکستان میں مداخلت، اپوزیشن سے ٹکراؤ اور دوسرے غیر ضروری معاملات پر مرکوز ہے۔
مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے بھارتی میڈیا اب گودی میڈیا میں تبدیل ہو چکا ہے۔ گودی میڈیا کے خلاف پچھلے دنوں کسانوں نے بھی اپنے احتجاجی مظاہروں میں خوب نعرے بازی کی۔ رویش کمار نامی کسان راہنما کا کہنا تھا کہ 2014 سے پہلے کبھی میڈیا کے حالات اتنے برے نہیں تھے کسانوں کو کبھی دہشت گردوں کے نام سے نہیں منسوب کیا گیا اور نہ ہی حکومت سے سوال کرنے والوں کو کبھی گینگ قرار دیا گیا۔
2023 کے ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس کی رپورٹ کے مطابق بھارت کی رینکنگ 180 ممالک سے میں سے 161 نمبرز تک گر گئی۔
بھارت میں سوشل میڈیا کا منفی پروپیگنڈا بھارتی نیوز چینلز پر بری طرح اثر انداز ہو رہا ہے ۔مودی کے دور حکومت میں میڈیا پر حکومتی موافقت میں مواد نشر کرنے پر دباؤ خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے۔
فروری 2020 میں مسلم مخالف دہلی فسادات کی رپورٹنگ پر بھارتی نیوز چینل کو بند کر دیا گیا تھا۔ اسی طرح ، 2002 میں مودی سرکار کی انتہا پسندی کے باعث گجرات میں مسلم کش فسادات ہوئے اور مودی اس وقت گجرات کا وزیراعلی تھا۔بیورو چیف فنانشل ٹائمز کے مطابق ، مودی کے پہلی دفعہ اقتدار میں آنے سے لے کر اب تک بھارت میں صحافتی شعبہ بالکل بدل چکا ہے۔
بھارتی وزارت خارجہ نے بین الاقوامی صحافیوں کی آزادی پر بھی پابندی لگاتے ہوئے مخصوص جگہوں کی کوریج حکومت کی اجازت سے مشروط کر دی، بیورو چیف فنانشل ٹائمز
رواں سال فروری 2024 میں فرانسیسی صحافی وینیسا ڈوگناک نے حکومت کی جانب سے ملک بدری کی دھمکیوں سے تنگ آ کر بھارت چھوڑ دیا تھا۔ فرانسیسی صحافی پر مشکوک مواد شائع کرنے اور ممنوعہ جگہوں پر کوریج کرنے کا الزام تھا۔ مودی سرکار تنقیدی اور حقائق پر مبنی سوالات سے بچنے کے لیے معروف اور نامور صحافیوں کی بجائے ایکٹرز اور فلم انڈسٹری سے منسلک افراد کو انٹرویوز دے رہے ہیں۔ فلم انڈسٹری سے منسلک افراد کو انٹرویوز دینے کا مقصد دراصل بھارتی وزیراعظم کی دہشت گردانہ سرگرمیوں سے توجہ ہٹا کر سافٹ امیج کو اجاگر کرنا ہے۔
نہ صرف بھارتی نیوز چینلز بلکہ سوشل میڈیا ہینڈلرز اور یوٹیوبرز بھی مودی سرکار کے ریڈار پر آ گئے۔ مودی سرکار زیادہ سبسکرائبرز والے یوٹیوبرز کو اپنی انتخابی مہمات کے لیے استعمال کرنے لگی۔ معروف فیشن اور فٹنس اکاؤنٹس والے یوٹیوبرز کی ٹائم لائن اب انتخابات کے نزدیک آتے ہی ہائی پروفائل حکومتی حامیوں اور لیڈران کے انٹرویوز سے بھری چکی ہے ۔ آزادی صحافت سے مودی کا کوئی لینا دینا نہیں، مودی سرکار بھارتی میڈیا پر پوری طرح قابض ہو چکی ہے

COMMENTS

Wordpress (0)
Disqus ( )