ISIS-K

داعش-خراسان ریاست اسلامی کی برانچ ہے اور عالمی سطح پر باقی دہشتگرد گروہوں سے زیادہ خطرناک ہے۔ 2021 میں ISIS-K نے کابل ایئر پورٹ پر خود کش حملہ کیا جس میں 170 افغان اور 13 امریکی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔سابق افغان نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سکیورٹی کے سربراہ احمد ضیاء سراج نے آئی ایس کے پی کیلئے افغانستان کو محفوظ ترین جگہ قرار دیا جن کے مطابق ، آئی ایس کے پی کی انٹیلی جنس طالبان کیساتھ کافی گہرے رابطے میں ہے۔

ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل مائیکل نگاٹا کا کہنا ہے کہ افغانستان سے امریکہ کے انخلاء کے بعد سے آئی ایس کے پی کی بین الاقوامی رسائی، طاقت اور توسیع وسیع ترین اور مزید طاقتور ہو گئی ہے۔ آئی ایس آئی ایس جدید تاریخ کا سب سے طاقتور، سب سے زیادہ قائل کرنے والا اور حکمت عملی کے لحاظ سے سب سے موثر دہشت گرد گروہ ہے اور ان کے پاس ایک بہت موثر نیٹ ورک ہے جو مشرقی ایشیا سے لے کر مغربی افریقہ تک اور یہاں تک کہ بحرالکاہل اور اس سے آگے تک چلتا ہے۔ القاعدہ کبھی اتنی مضبوط نہیں ہوئی جتنی آج آئی ایس آئی ایس ہوچکی ہے۔

آئی ایس کے پی نے افغانستان میں طالبان کی کمزوریوں کا فایدہ اٹھاتے ہوئے پورے خطے میں اپنی جڑیں مضبوط کی ہیں۔ اقوام متحدہ سیکیورٹی کونسل کی رپورٹ کے مطابق، افغانستان سے امریکہ کے انخلاء کے بعد سے آئی ایس کے پی کے دہشتگردوں کی تعداد 4 ہزار سے 6 ہزار تک پہنچ چکی ہے۔ آئی ایس کے پی پاکستان، ایران، ازبکستان اور تاجکستان میں متعدد دہشتگرد حملوں میں ملوث رہ چکا ہے۔

آئی ایس کے پی کے طالبان کیساتھ تعلقات بھی کشیدگی کا شکار ہیں جسکی وجہ افغانستان، چین اور روس کا باہمی تعاون ہے اور ان کی جانب سے العزائم کے نام سے ایک سوشل میڈیا پلیٹ فارم بھی چلایا جارہا ہے جسکے ذریعے وہ نہ صرف اپنے متعلق خبر عوام تک پہنچاتے ہیں بلکہ نئے دہشتگرد بھی بھرتی کرتے ہیں ۔ آئی ایس کے پی کے زیر نگرانی ایک میگزین بھی شائع کیا جاتا ہے جسکا نام وائس آف خراسان ہے۔ ستمبر 2022 کی رپورٹ کے مطابق العزائم میڈیا کی جانب سے 750 آڈیوز، 108 وڈیوز اور 175 کتابیں شائع کی گئیں ۔ العزائم میڈیا دہشتگردوں کو آن لائن ٹریننگ بھی فراہم کرتا ہے ۔ العزائم میڈیا کی جانب سے طالبان کو بھی آئی ایس کے پی جوائن کرنے کیلئے راغب کیا جاتا ہے ۔
اسلامی ریاست افغانستان کی جانب سے آئی ایس کے پی کے سرغنہ کے طور پر غفاری کو منتخب کیا گیا جو کہ آئی ایس کے پی کے تمام آپریشنز کا ذمہ دار ہے۔ غفاری یونیورسٹی کے طلباء اور غیر سلفیوں کو اپنی فوج میں شامل کررہا ہے جنکا تعلق ازبکستان، تاجکستان اور افغانستان سے ہے۔

COMMENTS

Wordpress (0)
Disqus ( )