مودی کے بھارت میں انسانی حقوق کی پامالیاں – امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی رپورٹ
امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے بھارت میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر تفصیلی رپورٹ جاری کی۔ رپورٹ امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے سیکریٹری اینٹونی بلنکن کی جانب سے پیش کی گئی۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ بھارت میں انسانی حقوق کی پامالیاں شرمناک حد تک بڑھ چکی ہیں۔رپورٹ میں منی پور، بی بی سی دفتر پر غیر قانونی چھاپے اور راہول گاندھی کی دو سالہ قید کی سزا کا ذکر کیا گیا۔
بھارت نے سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی انسانی حقوق اور مذہبی آزادی پر سابقہ رپورٹ کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ 2023 میں ہندوستان کی شمال مشرقی ریاست منی پور میں کوکی اور میتی قبیلوں کے درمیان نسلی تنازعہ کا آغاز ہوا جسکے دوران انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہوئیں۔
رپورٹ کے مطابق 3 مئی سے 15 نومبر کے درمیان کم از کم 175 افراد ہلاک اور 60,000 سے زیادہ بے گھر ہوئے۔
منی پور میں بڑے پیمانے پر مسلح تصادم، عصمت دری، گھروں، کاروبار اور عبادت گاہوں کی تباہی ہوئی۔ منی پور فساد کے متاثرہ افراد، انسانی حقوق کی تنظیموں اور سیاسی جماعتوں نے مودی سرکار کی انتشار اور تشدد روکنے میں ناکامی پر کڑی تنقید کی۔ مودی سرکار کی جانب سے سول سوسائٹی کی تنظیموں، مذہبی اقلیتوں، جیسے سکھوں و مسلمانوں، اور سیاسی اپوزیشن کے خلاف غلط معلومات پھیلانے کے بھی بے شمار واقعات رونما ہوئے۔
جموں و کشمیر میں صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں سے پرتشدد تفتیش کی بھی متعدد رپورٹس موصول ہوئی ہیں۔ 2019 سے اب تک 35 سے زائد صحافیوں پر بھارتی فوج کے حملوں، تفتیش، چھاپوں، من گھڑت مقدمات، اور نقل و حرکت پر پابندیوں کی رپورٹ موصول ہوئی۔
رائیٹرز کے مطابق ، بی بی سی کے دفتر پر بھی بھارتی ٹیکس ڈیپارٹمنٹ نے غیر قانونی طور پر چھاپا مارا اور ان لوگوں کو بھی نقصان پہنچایا جن کا فنانس ڈیپارٹمنٹ سے کوئی تعلق ہی نہیں تھا۔
بی بی سی کی مودی پر تنقیدی ڈاکیومنٹری ریلیز ہونے کے بعد ٹیکس ڈیپارٹمنٹ نے مودی کے حکم پر دفتر پر چھاپا مارا۔ رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز نے 2023 میں آزادی صحافت کے انڈیکس میں ہندوستان کو 180 ممالک میں سے 161 نمبر پر رکھا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا دعویٰ ہے کہ مودی کے دور میں ماحول انتہائی خراب ہوا ہے۔
رپورٹ میں مودی کے زیر اقتدار نفرت انگیز تقاریر میں اضافے، کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی، شہریت کا قانون جسے اقوام متحدہ “بنیادی طور پر امتیازی” قرار دیتا ہے اور غیر قانونی تعمیرات کو ہٹانے کے نام پر مسلمانوں کی املاک کی مسماری کا بھی ذکر کیا گیا۔
