رٹ آف دی سٹیٹ
جاوید چودھری
ایکسپریس
میں کل سے ایک خاتون کی وڈیو دیکھ رہا ہوں’ یہ واقعہ یکم جنوری 2024 کو موٹروے کے اسلام آباد کے انٹری پوائنٹ پر پیش آیا’ پولیس کے ایک اہلکار نے خاتون کی گاڑی روکی جب کہ دوسرا اہلکار گاڑی کے سامنے کھڑا ہو گیا’ خاتون کی اہلکار سے تلخ کلامی ہوئی اور اس نے دوسرے پولیس اہلکار پر گاڑی چڑ ھادی ‘ اس کی جان بچ گئی لیکن ریاست کی ساری رٹ پہیوں تلے کچل گئی ‘ اب سوال یہ ہے خاتون کو پولیس اہلکار پر گاڑی چڑھانے کا حوصلہ کس نے دیا ؟ یہ حوصلہ دراصل اسے ملک کے حالات نے دیا’
قوم جب فیض آباد میں پے در پے دھرنے اور ہجوم کے ہاتھوں پولیس اہلکاروں کو مرتے دیکھے گی اور آخر میں ان تمام لوگوں کو عزت کے ساتھ الیکشن لڑتے اور وزیر اعظم بنتے بھی دیکھے گی تو پھر یہ خاتون راستے میں کھڑے پولیس اہلکار کو گاڑی کے نیچے کیوں نہ دے اور فرسٹریشن کے شکار نوجوان 9 مئی کو فوجی تنصیبات پر حملہ کیوں نہ کریں اور یہ کور کمانڈر کے گھر میں داخل ہو کر یو نیفارم کی بے عزتی کیوں نہ کریں- ہم آج اس خاتون کو برا بھلا کہہ رہے ہیں’ ہمیں کہنا بھی چاہیے لیکن ہم نے 9 مئی کے ذ مہ داروں کا کیا بگاڑ لیا ‘ ہم اگر سال گزرنے کے بعد بھی ان کو جیلوں میں رکھ کر داماد کی طرح ان کی خدمت کر رہے ہیں’ ان کے نام ای سی ایل سے نکال رہے ہیں اور ان کو سیلوٹ کر رہے ہیں تو پھر اس بے چاری بی بی کا کیا قصور ہے ‘ ہم اسے برا بھلا کیوں کہہ رہے ہیں !
