نریندر مودی نے ہندوتوا کے نظریے کو بھارتی سیاست کا محور کیسے بنایا؟

25 April 2024

Published in: VOA

ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ دس برسوں کے دوران نریندر مودی نے جو اقدامات کیے ہیں اس میں آر ایس ایس سے حاصل ہونے والی سیاسی و روحانی تربیت نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ اس عرصے میں بھارت ایک عالمی قوت کے طور پر ابھرا اور دنیا کی پانچویں بڑی معیشت بنا ہے۔ ساتھ ہی ان کے دورِ حکومت میں بھارت کی اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے وزیرِ اعظم مودی نے ریاست اور مذہب کے درمیان حائل لکیر کو بہت مدھم کردیا ہے جب کہ میڈیا، سیاسی مخالفین اور عدالتوں کو درپیش خدشات میں اضافے کی وجہ سے بھارت میں جمہوریت خطرے میں ہے۔ بھارت میں عام انتخابات شروع ہو چکے ہیں اور 73 سالہ مودی مسلسل تیسری بار وزیرِ اعظم بننے کے لیے مہم چلا رہے ہیں۔ اب تک کے جائزوں کے مطابق مودی اور ان کی جماعت بی جے پی کے لیے الیکشن میں کامیاب ہونے کے امکانات روشن ہیں۔ ان کا مقابلہ اس وقت ایک بڑی مگر تقسیم شدہ اپوزیشن سے ہے۔ مودی کے حامی اور ناقد دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ مودی نے ایک ارب 40 کروڑ سے زائد آبادی رکھنے والے ملک میں ہندو قوم پرستی کو نہ صرف قابلِ قبول اور مقبول بنایا ہے بلکہ اس کے استعمال سے اپنے اقتدار کو بھی طول دیا ہے۔ یہ ایک ایسے ملک میں ہورہا ہے جو دہائیوں مختلف ثقافتوں اور مذاہب پر مشتمل اپنے متنوع معاشرے کو قابلِ فخر قرار دیتا تھا۔ مبصرین کے مطابق مودی کی حکمتِ عملی کا جائزہ لیتے ہوئے یہ بات نظر انداز نہیں کی جاسکتی کہ مودی نے 80 فی صد ہندو آبادی رکھنے والے ملک میں اپنا ووٹ بینک بنایا ہے. وزیرِ اعظم مودی کے سوانح حیات لکھنے والے مصنف نلنجن مکھپادھیائے کا کہنا ہے کہ مودی 100 فی صد آر ایس ایس کی پراڈکٹ ہیں اور اسی کے مقاصد پورے کر رہے ہیں۔

COMMENTS

Wordpress (0)
Disqus ( )