امریکی محکمہ خارجہ کی جاری کردہ رپورٹ میں بھارت میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر اظہار تشویش

مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام پچھلے 76 سالوں سے بھارتی ظلم اور بربریت کا شکار ہیں۔
مودی سرکار کے دور اقتدار کے بعد کشمیریوں کی زندگی اجیرن کر دی گئی۔ اپنی ہی سرزمین قابض بھارتی حکومت نے مظلوم کشمیریوں پر تنگ کر دی۔
5 اگست 2019 کو مودی سرکار نے کشمیری عوام کے حق پر غاصبانہ ڈاکا ڈالتے ہوئے آرٹیکل 370 کی بھی تنسیخ کر دی۔
24 اپریل 2024 کو، امریکی محکمہ خارجہ نے “انسانی حقوق کی رپورٹ 2023” جاری کی جس میں بھارتی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق بھارت میں مسلسل انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کی گئی۔ صحافیوں کو ڈرانا اور آزادی صحافت پر پابندیاں، بالخصوص مقبوضہ کشمیر میں 35 سے زیادہ صحافیوں کو حملوں، نگرانی اور صوابدیدی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا جن میں خرم پرویز، فہد شاہ اور عرفان مہراج شامل ہیں۔
جبری گمشدگی اور کشمیری انسانی حقوق کے محافظوں کے ساتھ ناروا سلوک پر اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں نے روشنی ڈالی ہے۔
مقبوضہ کشمیر میں بڑی تعداد میں غیر شناخت شدہ قبریں اور سول سوسائٹی کے اداروں کے خلاف ہراسگی نمایاں ہے۔
بھارت نے 2016-2022 کے درمیان ماورائے عدالت قتل کے 813 مقدمات درج کیے، جن میں سب سے زیادہ چھتیس گڑھ میں رپورٹ ہوئے۔
رپورٹ میں نمایاں کیے گئے اہم مسائل میں نفرت انگیز تقاریر میں اضافہ، کشمیر کی خصوصی حیثیت کا متنازعہ خاتمہ، شہریت کا امتیازی قانون، اور شہری تجدید کی کوششوں کی آڑ میں مسلمانوں کی املاک کو ہدف بنا کر مسمار کرنا شامل ہیں۔ رپورٹ میں 2023 کے دوران منی پور میں کوکی اور میتی قبائل کے درمیان تباہ کن نسلی تنازعہ پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ منی پور فسادات میں کم از کم 175 افراد ہلاک اور 60 ہزار سے زیادہ افراد بے گھر ہوئے۔
رپورٹ میں منی پور میں بی بی سی کے دفتر پر غیر قانونی چھاپے اور راہول گاندھی کو قید کیے جانے پر بھی بھارتی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ۔
عالمی طاقتوں کو چائیے کے نام نہاد جمہوریت کے دعویدار مودی سرکار کے گھناؤنے کھیل کے خلاف سخت ایکشن لے

COMMENTS

Wordpress (0)
Disqus ( )