ٹی ٹی پی کی روز اول سے جاری منافقت
میدان جنگ میں پولیس کی کامیاب کارروائیوں سے خوارج بوکھلاہٹ کا شکار ہو کر پولیس کو ایک بار پھر دھمکیوں سے ہراساں کرنے پر مجبور ہیں۔
ٹی ٹی پی نے 24 اپریل 2024 کو جاری کردہ ایک بیان میں پولیس کو دہشت گردی کے خلاف جنگ سے کنارہ کشی اختیار کرنے کا مشورہ دیا ہے ۔ انہوں نے پولیس کو باقی قانون نافذ کرنے والے اداروں سے الگ ہونے کا مشورہ بھی دیا ہے –
جاری کردہ بیان میں خوارجیوں نے پولیس کو انتباہ کیا کہ وہ ٹی ٹی پی کے خلاف کاروائیوں سے باز آجائیں ورنہ ان کو بھاری نقصان اٹھانا پڑے گا۔
اپنے انتشاری پیغام میں خوارج نے سیکیورٹی فورسز کے درمیان فساد ڈالنے کے لیے یہ دھمکی بھی دی ہے کہ پولیس فوج سے کنارہ کشی اختیار کرے اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں پولیس یقیناً پہلے کی طرح ٹی ٹی پی کے نشانے پر ہوگی۔
اس بیان سے بات صاف واضح ہوتی ہے کہ یہ خوارج میدان میں ہار چکے ہیں اور اب پاکستان کے اداروں کے درمیان فساد ڈلوانے کے در پے ہیں۔
لیکن یہاں سوال تو اٹھتا ہے کہ آخر یہ خوارج کس نقصان کی بات کر رہے ہیں۔ ابھی تک جو نقصان خوارج پولیس کو دے چکے ہیں کیا وہ کم تھا؟ کیا وہ بھول گئے ہیں کہ کس بے دردی سے انہوں نے ہزاروں پولیس افسران کو شہید کیا ۔ کیا پولیس خوارج کے ڈھائے ہوئے مظالم بھول جائیں؟
خوارج کو یہ خوش فہمی ہے کہ وہ پہلے کی طرح ایک بار پھر پولیس کو دہشت گردی کا نشانہ بنا کر اپنے ناپاک عزائم حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائینگے۔ مگر یہ ان کی بھول ہے کیونکہ پاک فوج نہ صرف ہر مشکل گھڑی میں پولیس کے شانہ بشانہ کھڑی ہے بلکہ پولیس کو دہشت گردی سے لڑنے کے لیے باصلاحیت بنانے کے ساتھ ساتھ جدید اسلحہ بھی فراہم کررہی ہے۔
خوارج شاید بھول جاتے ہیں کہ پاکستان کے اداروں کے حوصلے بلند ہیں ۔ نہ صرف افواج پاکستان بلکہ عام عوام بھی پولیس کی قربانیوں کو سلام پیش کرتی ہے۔
اسی سلسلے میں سپاہ سالار جنرل سید عاصم منیر نے پشاور میں پولیس لائنز مسجد دھماکے کے بعد ان کو کہا کہ پولیس اللہ کی جنگ لڑ رہی ہے اور پاکستان کی عوام پولیس اور لاانفورسمنٹ ایجنسیوں پر فخر کرتی ہے۔انہوں نے واضح پیغام دیا کہ دہشتگردوں اور انکے سہولتکاروں کیخلاف تمام وسائل کو بروئے کار لایا جائے گا جبکہ پولیس کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو مزید بڑھایا جائے گا۔
پاکستان کی بہادر پولیس دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں بہت اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ پاکستان کی پولیس، پاکستان کی مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے ہمہ وقت دہشتگردی کے خلاف اس جنگ میں ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور جب تک اس ناسور کا ملک سے پوری طرح خاتمہ نہیں کرلیتے تو سیکیورٹی ادارے سکون کا سانس نہیں لیں گے اور ان جہنم کے مسافروں کو عبرت ناک انجام تک پہنچانے کیلئے مشترکہ آپریشنز کا سلسلہ جاری رہے گا۔
ان خوارج سے معصوم عوام، پولیس اور سیکیورٹی اداروں کے خون کے ایک ایک قطرے کا حساب لیا جائے گا۔ انشاء اللہ
