حکومت سوشل میڈیا پر کنٹرول بڑھانا چاہتی ہے‘: پاکستان میں سائبر کرائم کی روک تھام کے لیے نئی ایجنسی کا قیام

Publishing date: 04 May 2024

Published in: BBC Urdu

پاکستانی حکومت نے سائبر کرائم کی تحقیقات اور روک تھام کے لیے نئی تحقیقاتی ایجنسی قائم کر دی ہے جس کا نام ’نیشنل سائبر کرائم ایویسٹیگیشن ایجنسی‘ (این سی سی آئی اے) رکھا گیا ہے۔

پاکستانی حکومت کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق نئی ایجنسی کا قیام ’پریوینشن آف الیکٹرانک کرائم ایکٹ، 2016‘ کے آرٹیکل 29 کے تحت عمل میں لایا گیا۔

اس سے قبل سائبر کرائم کی تحقیقات ’فیڈرل انویسٹیگیشن ایجنسی‘ (ایف آئی اے) کا سائبر کرائم ونگ کیا کرتا تھا تاہم اب ان جرائم کی تحقیقات این سی سی آئی اے کرے گا۔

خیال رہے گذشتہ روز پاکستان کے وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے عندیہ دیا تھا کہ ان کی حکومت سوشل میڈیا پر ’پروپیگنڈا‘ روکنے اور لوگوں کے ’ڈیجیٹل رائٹس کے تحفظ‘ کے لیے ایک نئی اٹھارٹی قائم کرنے پر توجہ مرکوز کیے ہوئی ہے۔

انھوں نے کہا تھا کہ ’ہر قسم کی ہراسانی بشمول آن لائن ہراسانی کا خاتمہ ہونا چاہیے۔‘

حکومتی نوٹیفکیشن کے مطابق این سی سی آئی اے کا ڈائریکٹر جنرل حکومت پاکستان کا منتخب کردہ گریڈ 21 کا افسر ہوگا اور ان کی سربراہی میں اس محکمے میں ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرلز، ڈائریکٹرز، ایڈیشنل ڈائریکٹرز، ڈپٹی ڈائریکٹرز، اسسٹنٹ ڈائریکٹرز اور دیگر افسران کام کریں گے۔

پاکستان میں معروف سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر رواں برس فروری سے پابندی عائد ہے۔

حال ہی میں پاکستان کے وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا تھا کہ ’ایکس‘ پر پابندی نگراں حکومت کے دور میں لگائی گئی تھی تاہم وزیرِاعظم شہباز شریف کی حکومت نے اس پابندی کو برقرار رکھا۔

پاکستانی وزیر کی جانب سے الزام عائد کیا گیا تھا کہ ’ایکس‘ کو ملک دشمنوں سے فنڈنگ لے کر ’ریاست کے مفادات کے خلاف‘ استعمال کیا جاتا ہے اور معیشت کو بھی نقصان پہنچایا جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ پابندی میں سمجھتا ہوں کہ اصولی طور پر نہیں ہونی چاہیے لیکن جب ایسے بیانات آتے ہیں جو قومی سلامتی اور قومی مفاد کو نقصان پہنچاتے ہیں، اس کے خلاف حفاظت کیسے کی جائے؟ ہمارے پاس کیا میکنیزم ہے کہ اس کو روکا جائے؟‘

COMMENTS

Wordpress (0)
Disqus ( )