بھارتی بربریت کی ایک اور مثال – سیماری گاؤں

دنیا میں جنت کہلائی جانے والی وادی کشمیر بھارتی بربریت اور دہشتگردی کے باعث اب بد امنی کا گڑھ بن کے رہ گئی ہے۔ اگست 1947 میں تقسیم کے بعد جموں کشمیر کے رہائشیوں کے سیاہ ترین باب کا آغاز ہوا اور اسکی واضح مثال سیماری گاؤں ہے۔

سیماری ایک ایسا گاؤں ہے جس کا ایک حصہ آزاد کشمیر میں جبکہ دوسرا حصہ بھارت کے قبضے ہے۔ سیماری کے دونوں حصوں کے درمیان میں ایک دریا بہتا ہے جسکو پاکستان میں دریائے نیلم اور بھارت میں کشن گنگا کہا جاتا ہے۔ تقسیم کے بعد سیماری کے بے شمار رہائشی اپنے عزیز و اقارب حتی کہ اپنی اولادوں اور والدین سے بھی بچھڑ گئے۔ پاکستان کی جانب سے کئی بار کوشش کی گئیں کہ بچھڑے ہوئے کشمیریوں کو انکے خاندانوں سے ملوایا جائے لیکن بھارتی جارحیت نے کبھی ایسا ممکن نہ ہونے دیا۔ سیماری کے دونوں حصوں کو ملانے کیلئے دریا پر پل بھی موجود ہے لیکن اسے پار کرنے کی اجازت نہیں۔

بھارتی فوج نے سیماری کو اپنے فوجی کیمپ میں تبدیل کردیا ہے، یہاں تک کہ معصوم رہائشی اپنے گھر جانے سے پہلے بھی بھارتی فوج کی اجازت لیتے ہیں۔ 2019 میں مودی کے پلوامہ ڈرامے کے بعد سیماری میں حالات مزید کشیدگی اختیار کرگئے۔ بھارتی فوج نے سیماری کی لائن آف کنٹرول کو پاکستانی شہریوں کو ہراساں کرنے کیلئے استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔ بھارتی فوج کی دہشتگردی کے باعث پاکستانی سیماری میں لاتعداد گھر تباہ اور رہائشی بےگھر ہوچکے ہیں ۔ بھارتی فوج کی جانب سے گھنٹوں جاری رہنے والی شیلنگ کے باعث ہزاروں رہائشی اپنے گھر میں قید ہو کے رہ جاتے ہیں۔
بھارتی فوج کی فائرنگ اور شیلنگ کے باعث رہائشی اپنا ذریعہ معاش کمانے کیلئے بھی گھر سے باہر نہیں نکل پاتے اور گاؤں کے بھارتی حصے کے چپے چپے پر بھارتی فوج کا قبضہ ہے اور یہاں کے رہائشیوں کی مکمل نقل و حرکت بھارتی فوج کے اشاروں پر منحصر ہے۔

سر سبز پہاڑوں پر مشتمل خوبصورت سیماری مکمل طور پر بھارتی فوج کی بارودی سرنگوں سے لیس ہے۔ سیماری کے حسین پہاڑ اور درخت بھی بھارتی فوج کی دہشتگردانہ کاروائیوں کیلئے استعمال ہوتے ہیں۔ سیماری کے رہائشیوں کی ذاتی زمینوں پر بھی بھارتی فوج قابض ہے ۔
سیماری کے رہائشی 77 برسوں سے بھارتی ظلم و جبر کا شکار ہیں اور عالمی قوتوں سے بھارت سے جواب طلبی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ مظلوم کشمیریوں پر ہونے والے ظلم اور بربریت پر قابض بھارتی حکومت نے ہمیشہ بے حسی کا مظاہرہ کیا۔ کیا مودی سرکار اقوام متحدہ کے اصولوں کے مطابق کشمیری عوام کی داد رسی کرنے پر مجبور ہو جائے گی یا یوں ہی ان مظالم کو جاری رکھے گی؟

COMMENTS

Wordpress (0)
Disqus (0 )