عزم استحکام فوجی آپریشن نہیں بلکہ انسداد دہشت گردی مہم ہے
Publishing date: 23 July 2024
Published in: DW
پاکستانی فوج نے پیر کے روز واضح کیا کہ آپریشن عزمِ استحکام کوئی فوجی آپریشن نہیں بلکہ انسداد دہشت گردی کی ایک مہم ہے۔ اس نے یہ بھی کہا کہ ایک مضبوط لابی نہیں چاہتی کہ نیشنل ایکشن پلان (این اے پی) کامیاب ہو۔
پاکستان کا افغانستان سے ‘دہشت گردوں’ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ
پاکستانی فوج کے محکمہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈی جی لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے راولپنڈی میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران کہا کہ ”ضرب عضب اور راہ نجات جیسی ماضی کی کارروائیوں سے آپریشن عزم استحکام کا موازنہ کرنا مناسب نہیں ہے۔”
ڈیرہ اسماعیل خان میں عسکریت پسندوں کے نئے حملے میں متعدد افراد ہلاک
انہوں نے مزید کہا کہ مسئلہ یہ ہے کہ ملک کے سنگین مسائل پر بھی سیاست کی جاتی ہے۔ جنرل شریف نے مجوزہ آپریشن کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا، ”حکومت نے یہ بھی کہا ہے کہ آپریشن عزمِ استحکام ایک مربوط انسداد دہشت گردی کی مہم ہے اور یہ فوجی آپریشن نہیں ہے۔”
نواز شریف ’موروثی یا اینٹی اسٹیبلشمنٹ‘ سیاست کے داعی؟
فوجی ترجمان نے کہا کہ آپریشن عزمِ استحکام کو متنازعہ بنانے کے لیے ایک بیانیہ تیار کیا جا رہا ہے۔
پاکستانی انتخابات: عالمی تحفظات، آرمی چیف کی مبارکباد
پریس کانفرنس کے دوران ایک صحافی نے جنرل شریف سے ‘راہ نجات’ اور ‘ضرب عضب’ نیز ‘عزم استحکام’ سے متعلق موازنہ کے بارے میں سوال کیا اور سیاسی حلقوں میں مقامی لوگوں کی نقل مکانی کے ممکنہ خدشات کے بارے میں پوچھا۔
اس پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کی ایپکس کمیٹی کے 22 جون کے بیان میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ سول اور عسکری رہنماؤں نے انسداد دہشت گردی کی کوششوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا ہے اور اس بات پر اتفاق کیا کہ ملک میں انسداد دہشت گردی کی ایک جامع مہم کی ضرورت ہے۔
اسی بیان کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک میں انسداد دہشت گردی مہم کے لیے سیاسی جماعتوں سے مشاورت کی جائے گی اور قانون سازی کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ یہ ”ہماری بقا کا معاملہ ہے اور ہم سیاست کی وجہ سے سنگین معاملات کو بھی مذاق میں بدل دیتے ہیں۔”
‘فوج ڈیجیٹل دہشت گردی کے نشانے پر’
پریس کانفرنس میں جب ایک صحافی نے یہ سوال پوچھا کہ آرمی چیف، یہ ادارہ اور اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کئی حوالوں سے شدید تنقید کی زد میں ہیں، تو ادارہ اس سے کیسے نمٹ رہا ہے۔
