افغان طالبان کے سپریم لیڈر کے حالیہ بیان سے جڑے کچھ اہم نکات
24 مارچ 2024 کو افغان طالبان کے سپریم لیڈر ملا ہیبت اللہ نے افغان سرکاری ٹی وی اور ریڈیو کے ذریعے ایک بیان جاری کیا۔
یہ ویڈیو بیان بہت سے اہم نکات کو جنم دیتا ہے۔
اس بیان سے یہ واضع ھو جاتا ہے کہ افغانستان ایک پالیسی کے تحت دنیا اور خطے میں افراتفری اور دہشت پھیلانا چاہتا ہے – اسی لئے وہاں پے موجود مختلف بین الاقوامی دہشت گرد تنظیمئیں مثلاً القاعدہ، تحریک طالبان پاکستان، داعش ، ایسٹ ترکمانستان اسلامک موومنٹ، اسلامی جہاد گروپ، اسلامی تحریک ازبکستان، جماعت الاحرار، لشکر جھنگوی، لشکر طیبہ، خطیبہ امام البخاری، جماعت انصار اللہ, لشکر اسلام, بلوچ لبریشن آرمی, بلوچ لبریشن فرنٹ اور بلوچ ریپبلکن آرمی موجود ہیں۔
ملا ہیبت کے افغانستان میں خواتین کو کھلے عام سنگسار کرنے کی بات کرنے سے یہ واضح ہو جاتا ہے وہاں پے انسانی حقوق کی کوئی اہمیت نہیں ہے – افغانستان بچوں اور عورتوں کے حقوق کے خلاف ایسے اقدامات ، کہ جن کا درحقیقت اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے ، کی ترویج کر کے ایک انتہائی سخت اور جبر شدہ اسلامی مذہب کو لوگوں پے مسلط کرنا چاہتا ہے
اس طرح کا پیغام ملا ہیبت اور ان کے ساتھیوں کی جھنجھلاہٹ اور مایوسی کی عکاسی کرتا ہے کیونکہ اِن باتوں سے ان کا مقصد عالمی برداری کی توجہ حاصل کرنا ہے
ان کا یہ کہنا کہ میں اگلے بیس سال امریکہ اور جموریت سے لڑنے کو تیار ہیں، اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ لوگ دہشت گردی کی پالیسی ترک نہیں کریں گے- یقیناً یہ لوگ ٹی ٹی پی کی حمایت بھی بند نہیں کریں گے – لہٰذا پاکستان کو ان سے عقل کی امید لگانا فضول ھو گا
دہشت گردی کی سرپرستی ، منیشات کی ترویج ، خواتین پے مظالم ، اسمگلنگ، اور منی لاڈرنگ جیسے جرم اور اس طرح کے بیانات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ان خوارج کا دینِ اسلام کی اصل روح، یعنی امن، سلامتی اور محبت سے دور دور تک تعلق نہیں ہے
