بھارتی مصالحہ جات کمپنیوں کا انسانی صحت سے کھلواڑ
معروف بھارتی مصالحہ جات کمپنیوں کی جانچ پڑتال کے دوران ہوشربا انکشافات کیے گئے۔ بھارتی مصالحہ جات کا غیر معیاری ہونے کی وجہ سے عالمی سطح پر پابندی عائد کر دی گئی۔
یورپی یونین برائے فوڈ سیفٹی اتھارٹی نے بھارتی مصالحہ جات کمپنیوں بشمول ایم ڈی ایچ اور ایوریسٹ پر مکمل پابندی لگاتے ہوئے انہیں فوری طور پر مارکیٹ سے ہٹانے کا حکم دیا۔یورپی یونین کا بھارتی مصالحہ جات میں کینسر کا سبب بننے والے ایتھیلین آکسائیڈ کی موجودگی کا انکشاف ۔ سنگاپور اور ہانگ کانگ نے بھی بھارت کے مشہور مصالحہ جات پر مکمل پابندی عائد کر دی ۔ عالمی سطح پر بھارتی مصالحہ جات پر پابندی اور بھارت کی عالمی سطح پر بدنامی کے باوجود مودی سرکار کے کان پر جون تک نہ رینگی۔
پچھلے چار سالوں میں یورپی یونین کی فوڈ سیفٹی اتھارٹی نے 500 سے زائد بھارتی مصالحہ جات پر پابندی لگا دی تھی ۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارتی فوڈ ریگولیشن کمپنیاں اپنے معیار پر توجہ دینے کے بجائے الیکٹرول بانڈز کے لیے چندہ لینے میں مصروف ہیں۔ صرف بھارتی مصالحہ جات ہی نہیں بلکہ میوے، ڈرائی فروٹس، جڑی بوٹیاں اور دیگر متفرق کھانے کی مصنوعات بھی عالمی سطح پر غیر معیاری قرار دے دی گئیں ہیں۔ اس کے علاوہ، بھارتی فارماسوٹیکل کمپنیاں بھی عالمی سطح پر بدنام ہو چکی ہیں۔ اس سے قبل بھارتی کھانسی کے شربت پینے سے افریقہ میں کئی بچوں کی اموات ہوئیں کیونکہ شربت میں ایتھائلین گلائکول کی بڑی تعداد موجود تھی ۔
دوسری جانب مودی سرکار مذہب تفرقہ کو ہوا دیتے ہوئے اپنے مذموم سیاسی مقاصد کی تکمیل میں مصروف ہے۔ مودی کا ہدف صرف اور صرف مسلمانوں کے خلاف زہر اُگلنا اور ہندوتوا سوچ کو فروغ دینا ہے۔
