بھارتی معیشت کے بارے میں جھوٹے دعوے

بھارتی معشیت کے بارے میں الجزیرہ کی حالیہ رپورٹ نے مودی کے کھوکھلے دعوے کا پردہ چاک کر دیا ہے۔

بھارتی پروفیسر کے مطابق ، مودی سرکار کی ناقص پالیسیوں کے باعث کرونا کے بعد بھارت کی معاشی صورتحال نہایت ابتر ہو گئی ہے۔ 2020 میں بھارت کی معیشت بدترین سطح پر پہنچ گئی جبکہ بھارت معاشی تنزلی کے لحاظ سے بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ، 80 فیصد سے زائد بھارتی آبادی معاشی زبوں حالی کا شکار ہے۔ دولت کی غیر منصفانہ تقسیم بھارتی معیشت کی گراوٹ کی سب سے اہم وجہ ہے۔

سروے کے مطابق ، بھارت میں امیر امیر تر جبکہ غریب غریب تر ہوتا جا رہا ہے ۔ بھارت کی 1 فیصد ایلیٹ آبادی پورے ملک کی تقریبا 40 فیصد سے زائد وسائل پر قابض ہے۔ بھارت میں وسائل کی عدم مساوات 100 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔

حکومتی پالیسیوں نے ایسا نمونہ پیش کیا جس سے دھوکا دہی کے تحت کم سے کم بھارتی عوام کو غریب دکھایا گیا اور اعدادوشمار میں بھی ردوبدل کیا گیا۔ نیو ویلفیئر ازم کے نام سے مودی سرکار نے انتخابات کے قریب آتے ہی ایک بھونڈا ڈرامہ رچایا۔ نیو ویلفیئر ازم نامی ڈرامے کے تحت بھارت کے اصل مسئلوں سے عوام کی توجہ ہٹاتے ہوئے انتخابی فوائد کے لیے یہ مہم استعمال کی گئی۔سابق گورنر بھارتی بینک کے مطابق ، مودی کے دور حکومت میں صحت اور تعلیم کے نظام میں مثبت تبدیلیاں لانا انتہائی مشکل ہے۔ مودی کے زیرِ حکومت پڑھے لکھے ہزاروں بھارتی طلبہ اچھے روزگار سے محروم ہیں۔
انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے اعدادوشمار کے مطابق، بھارت میں بنیادی نوکریوں کے حصول کے لیے بھارتی نوجوان عوام خوار ہو رہے ہیں۔ بھارت کے 65 فیصد سے زائد پڑھی لکھی عوام مناسب روزگار سے محروم کسمپرسی کی حالت میں ہیں۔

مودی سرکار کے جھوٹے وعدوں اور ناقص پالیسیوں کے تحت بھارتی نوجوانوں میں مایوسی اور ڈپریشن بڑھنے لگا۔ بھارت میں اپنے مستقبل سے مایوس نوجوان روزگار کی تلاش میں اسرائیل اور روس جانے کے خواہشمند ہیں۔ رواں سال خوفناک جنگ کی صورتحال کے باوجود ہزاروں بھارتی نوجوان اسرائیل میں نوکریوں کے لیے درخواست دے چکے ہیں۔ دوسری جانب بھارتی حکومت کی عیاشیوں کا یہ عالم ہے کہ پچھلے 9 سالوں کے دوران 950 ملین ڈالرز مودی حکومت اپنی اشتہار بازیوں اور انتخابی مہمات کے نام پر اڑا چکی ہے۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے بعد معاشی طور پر مستحکم ہونے کا بھارتی حکومت کا جھوٹا دعویٰ بےنقاب ہو گیا۔

COMMENTS

Wordpress (0)
Disqus ( )