مودی کے بھارت میں مسلمانوں کا جینا اجیرن
بھارتی مسلمانوں کے حقوق غصب کرنے اور ان پر ہونے والے مظالم کے حوالے سے بی بی سی نے چشم کشا رپورٹ شائع کی ہے ۔ بی جے پی کی حکومت میں مسلم مخالف نفرت انگیز تقاریر، مسلمانوں کے گھروں اور کاروباری مراکز کو مسمار کرنا، مساجد پر قابض ہونا، مسلم خواتین کی انٹرنیٹ پر ہرزہ سرائی اور دیگر پر تشدد واقعات سنگین حد تک بڑھ چکے ہیں۔
6 سال قبل آگرہ کے سکول میں مسلمان لڑکے کے چہرے پر سیاہی مل دی گئی۔ ایک بھارتی مسلمان بچے کے مطابق اسے سکول میں پاکستانی دہشت گرد کے نام سے پکارا جاتا ہے۔
بھارتی فضائیہ کی فروری 2019 میں پاکستان میں دراندازی کے بعد بھارتی مسلمانوں کو دھمکایا گیا کہ اگر پاکستان نے ہم پر میزائل حملہ کیا تو ہم بھارتی مسلمانوں کو ان کے گھروں میں گھس کر ماریں گے۔
مٹن کی ترسیل کرنے والے مسلمان کو لائسنس ہونے کے باوجود انتہا پسند پولیس نے گرفتار کرکے شدید تشدد کا نشانہ بنایا ۔ انتہا پسند ہندوؤں نے ریل میں سفر کرتے مسلمانوں کو گائے کا گوشت لے جانے کے الزام میں شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔
2020 میں شہریت کے متنازع قانون پر دہلی میں ہونے والے فسادات میں 50 سے زائد مسلمان شہید کر دیے گئے۔ بی جے پی جان بوجھ کر بھارت میں مسلم نمائندگی کو مخفی کر رہی ہے، پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں کوئی مسلم وزیر یا ایم پی اے نہیں ہے۔ انتہا پسند بی جے پی نے روایتی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھارت میں بڑھتے اسلاموفوبیا کا ملبہ غیر ذمہ دارانہ میڈیا ہاؤسز پر ڈال دیا۔
بھارتی مسلمان اپنے ہی ملک میں دوسرے درجے کے شہری بن چکے ہیں۔
