پاکستان میں مریضوں کے لیے ویزا فری انٹری، افغان باشندے خوش

حکومت پاکستان کے ایک حالیہ فیصلے سے مشکلات کے شکار افغان مریضوں اور ان کے لواحقین نے سکھ کا سانس لیا ہے۔ تاہم بعض افغانوں کا کہنا ہے کہ اس فیصلے پر عمل در آمد یقینی بنانے کے لیے نگرانی کی ضرورت ہے۔ افغان باشندوں کی ایک بڑی تعداد نے حکومت پاکستان کے اس فیصلے کو سراہا ہے، جس کے تحت افغان مریضوں اور ان کی دیکھ بحال کے لیے آنے والوں کو ویزے کے حصول سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔ دونوں ممالک کے مابین گزشتہ کئی ماہ سے جاری کشیدگی کی وجہ سے اب عام حالات میں افغان شہریوں کے لیے پاکستان کا سفر مشکل ہو چکا ہے۔ اگست 2021میں افغانستان میں طالبان کی آمد اور انکی پالیسیوں کی وجہ سے پاکستان میں لاکھوں کی تعداد میں افغان مشکل سے دو چار ہیں لیکن اسکے باوجود پاکستان نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر علاج کے لیے سرحد پار سے آنے والوں کو ویزے کی پابندی سے آزاد کر دیا گیا ہے۔ خیبر پختونخوا کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال لیڈی ریڈنگ کےگائنی وارڈ میں زیر علاج ایک افغان خاتون کے قریبی رشتہ دار عبید اللہ نے ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے کہا، “دو دن قبل اپنی اہلیہ کو یہاں داخل کرایا تھا۔ اسے علاج کی وہ تمام سہولیات فراہم کی جارہی ہیں، جو یہاں مقامی مریضوں کو فراہم کی جاتی ہیں۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ مریضہ کو یہاں لاتے وقت ان سے کسی قسم کی فیس بھی وصول نہیں کی گئی اور دوسروں کی طرح ان کی اہلیہ کو بھی یہاں دستیاب ادویات اور سہولیات بلا امتیاز فراہم کی جاتی ہیں۔ لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے ترجمان محمد عاصم نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ یہاں آنے والے تمام افغان باشندوں کو علاج معالجے کی وہ تمام سہولیات فراہم کی جارہی ہیں، جو کسی بھی مقامی باشندے کو میسر ہیں۔ اس وقت بھی لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے گائنی، کارڈیالوجی اور سرجیکل وارڈوں میں متعدد افغان مریض زیر علاج ہیں۔

COMMENTS

Wordpress (0)
Disqus (0 )