گوادر میں مارا جانے والا ایک دہشت گرد لاپتہ افراد میں شامل تھا

سرراہ

نوائے وقت

ہمارے ہاں مادر پدر آزادسوشل میڈیا پر جو کچھ دکھایا جاتا ہے، چلایا جاتا ہے، ایسا شاید ہی کسی اور ملک میں برداشت کیا جائے۔ اب مسنگ پرسن کے حوالے سےدیکھ لیں یہ ایک تشویش ناک امر ضرور ہے مگر جس طرح اس مسئلے کو کالعدم تنظیموں کے حامی اچھال رہے ہیں اور دھرنے دے رہے ہیں بھوک ہڑتال کر رہے ہیں کھلے عام حکومت ہی نہیں ریاست کے خلاف بھی ناقابل برداشت باتیں کر رہے ہوتے ہیں۔ اس پر بارہا اس بارے تحقیقات کا بھی کہا گیا اور بتایا گیا کہ لاپتہ افراد میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو خود مسلح دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ مل کر روپوش ہیں۔

اب گوادر میں مارے جانے والے دہشت گردوں میں ایک ایسا شخص بھی تھا جو لاپتہ افراد میں شامل ہے مگر کالعدم تنظیموں کے حامی وہی مرغے کی ایک ٹانگ والی بات دہرا رہے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ اب واقعی اس معاملے کو سرعت کے ساتھ حل کرکے عوام کے سامنے حقائق لائے جائیں تاکہ دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو اور بے گناہ بازیاب ہوں جبکہ گناہ گاروں کو سزا ملے مگر یہ سب قانونی طریقے سے ہو تاکہ کسی کو اس پر سیاست کرنے کا موقع نہ ملے۔

COMMENTS

Wordpress (0)
Disqus ( )